اگست 2025، کراچی: وزیر توانائی، ترقیات و منصوبہ بندی سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ لاہور کی طرز پر پاکستان ریلوے اور سندھ حکومت کی مشترکہ کاوشوں سے سب اربن ریلوے سروسز منصوبہ شروع کئے جانے کی تجویز زیر غور ہے، یہ منصوبہ کراچی سے سکھر تک عوام کی سفری سہولیات میں اضافہ کرے گا جس سے روزانہ لاکھوں افراد مستفید ہوسکیں گے، اس کے علاوہ انٹراسٹی بسوں پر مسافروں کا لوڈ بھی کم ہوگا اور رش کے باعث عوام کی تکالیف بھی کم ہوں گی۔ انہوں نے عوام کی بہتری و سفری سہولیات میں اضافے کے لیے سندھ حکومت نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے روہڑی سے سکھر کے درمیان شارٹ روٹ پر ٹرین سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بات انہوں نے پاکستان ریلوے کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے محکمہ توانائی کے دفتر میں ملاقات کے دوران کہی۔ وفد کی قیادت چیئرمین/سیکریٹری پاکستان ریلوے سید مظہر الاسلام کر رہے تھے جبکہ دیگر اراکین میں سی او ریلوے عامر علی بلوچ اور ڈی ایس ریلوے کراچی ریحان لاکھو شامل تھے۔ سندھ حکومت کی جانب سے سیکریٹری توانائی مشتاق احمد سومرو، ایم ڈی تھر کول انرجی بورڈ طارق علی شاہ، ایڈیشنل سیکریٹری کول ڈاکٹر وقاص راجپوت، چیف ٹیکنیکل آفیسر شارق رضا اور دیگر افسران بھی ملاقات میں شریک تھے۔
سیکریٹری ریلوے نے اس موقع پر بتایا کہ پاکستان ریلوے نے پنجاب حکومت کے اشتراک سے لاہور میں سب اربن ریلوے سروسز کا منصوبہ کامیابی سے شروع کیا ہے، جس سے 8 کروڑ سے زائد آبادی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت کو پیشکش کی کہ وہ ریلوے کے دیگر مجوزہ منصوبوں میں بھی شراکت کرے، جنہیں مشترکہ طور پر آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
وزیر توانائی ناصر شاہ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات ہیں کہ عوامی مفاد میں زیادہ سے زیادہ سہولتوں کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ ان کے وژن کے مطابق سندھ حکومت ہر اس ادارے کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی جو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرے۔ ریلوے کے ساتھ بھی حکومت سندھ مکمل اشتراک اور تعاون فراہم کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کے لیے سندھ حکومت نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے اور ریلوے لائنز کے اطراف تجاوزات ختم کرنے کے اقدامات جاری تھے، تاہم نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر ریلوے حکام نے عملدرآمد روک دیا۔
ناصر شاہ نے وفد کو بتایا کہ سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت متعدد منصوبوں پر تیزی اور کامیابی سے کام کر رہی ہے، اور روہڑی تا کراچی ریلوے ٹریک منصوبہ عوام کے لیے ایک بہترین منصوبہ ثابت ہو گا۔ ایم ایل ون منصوبے کو بھی ترجیح دی جائے گی، اور سندھ حکومت این او سی سمیت تمام مطلوبہ تعاون فراہم کرے گی۔
وزیر توانائی نے اس بات پر زور دیا کہ ریلوے کی انتظامی رکاوٹوں کے باعث سندھ حکومت کے کئی منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔ ان معاملات کی بہتری کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے، جو دونوں فریقین کے درمیان رابطے اور منصوبوں کی پیش رفت کو یقینی بنائے گی۔
اجلاس میں سندھ بھر میں واقع ریلوے اسٹیشنز اور حساس ریلوے کراسنگز کی بہتری، ریلوے اسٹیشنز کو گود لینے، ریلوے لائنز کے اطراف صفائی، شجرکاری، اور گرین بیلٹ کے قیام سے متعلق تجاویز بھی زیر غور آئیں۔
The Biz Update