زبیر طفیل نے کہا کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا مختلف بحرانوں، تجارتی تنازعات، علاقائی کشیدگی اور تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا سامنا کررہی ہے۔ ایسے حالات میں بڑے مسلم ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون نہ صرف سلامتی اور خودمختاری کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے مسلم دنیا کے اجتماعی اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان تاریخی اختلافات اور تقسیم نے ہمیشہ ان کے مخالفین کو فائدہ پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق ماضی کی کمزوریوں سے سبق سیکھتے ہوئے مشترکہ مفادات کے لیے اتحاد اور تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مکہ معاہدہ اسی ضرورت کو تسلیم کرنے اور مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد رکھنے کی ایک اہم مثال ہے۔
زبیر طفیل نے کہا کہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معلومات کے تبادلے، مشترکہ فوجی مشقوں، سیکیورٹی ٹیکنالوجی، اسلحہ سازی اور سائبر دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ اس سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے باہمی تعلقات کو نئی سمت اور مضبوط بنیاد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دیرینہ برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون علاقائی سلامتی کے ساتھ پاکستان کی معیشت، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔
زبیر طفیل نے زور دیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو دفاعی تعلقات کو وسیع تر معاشی تعاون میں تبدیل کرنا چاہیے۔ صنعت، تجارت، انفراسٹرکچر، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے نئی منڈیاں پیدا کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کو صرف دفاعی دستاویز تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے تینوں ممالک کے درمیان وسیع تر معاشی، سیاسی، سفارتی اور سماجی تعاون کی بنیاد بنانا چاہیے۔
The Biz Update