کراچی، 5 اگست: سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ اور سیلانی اسکول آف بزنس اینڈ اسلامک لیڈرشپ کے زیر اہتمام چوتھی نیشنل اسلامک اکنامک فورم کانفرنس میں مقررین نے 2027 تک ملک کے تمام کمرشل بینکوں کو اسلامی بینکاری پر منتقل کرنے، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بلاک چین کے فروغ، اور نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے پر زور دیا۔
کانفرنس میں منظور کی گئی متفقہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ نیشنل بینک سمیت تمام کمرشل بینک 31 دسمبر 2027 تک اسلامی بینکاری اختیار کریں اور اس ضمن میں کسی ادارے کو رعایت نہ دی جائے۔
وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس اتھارٹی کے چیئرمین بلال ثاقب نے کہا کہ اے آئی اور بلاک چین عالمی معیشت کو بدل رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ پروگرامنگ، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز سیکھ کر عالمی مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ مرکزی بینک اسلامی مالیاتی نظام کے فروغ، شریعہ کمپلائنٹ بینکاری اور بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے ترسیلاتِ زر کی سہولت بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ کے مطابق ملک میں تقریباً 29 فیصد بینکاری ڈپازٹس اور 40 فیصد فنانسنگ اسلامی بینکاری کے تحت آ چکی ہے، جبکہ یکم جنوری 2028 سے تمام نئے مقامی قرضے شریعہ کمپلائنٹ ہوں گے۔
مفتی منیب الرحمٰن نے معاشی اصلاحات تیز کرنے پر زور دیا، جبکہ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے بانی محمد بشیر فاروق نے تمام روایتی بینکوں کو مقررہ مدت میں اسلامی بینکاری پر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔
چیئرمین آباد حسن بخشی نے رہائشی بحران، کاروباری فنانسنگ اور عدالتی اصلاحات کو اہم چیلنجز قرار دیا۔
کانفرنس میں کرپٹو کرنسی پر پینل ڈسکشن بھی ہوئی۔ مقررین نے اتفاق کیا کہ اسلامی مالیاتی نظام، جدید ٹیکنالوجی، نوجوانوں کی مہارت اور معاشی اصلاحات پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں
The Biz Update