کراچی، 9 ستمبر 2026: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی رہی۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
مہنگائی میں اضافے، بیرونی کھاتے پر دباؤ اور درآمدی بل بڑھنے کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے حالیہ تیزی کے بعد منافع وصول کیا۔ انڈیکس میں نمایاں وزن رکھنے والے شعبوں میں فروخت کا دباؤ بھی برقرار رہا۔
کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 2,145 پوائنٹس تک گر گیا۔ تاہم، بعد میں کچھ بہتری آئی اور بینچ مارک انڈیکس 993 پوائنٹس یا 0.57 فیصد کمی کے ساتھ 172,642 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بڑے انڈیکس والے حصص میں فروخت کا دباؤ نمایاں رہا۔ یو بی ایل، لکی سیمنٹ، میزان بینک، نیشنل بینک اور پی پی ایل مارکیٹ میں کمی کی بڑی وجوہات میں شامل رہے۔ ان حصص نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس کو تقریباً 485 پوائنٹس نیچے لانے میں کردار ادا کیا۔
دوسری جانب کچھ حصص نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ پی ایس ای ایل، ایم سی بی اور اے ٹی آر ایل نے مجموعی طور پر انڈیکس کو تقریباً 199 پوائنٹس کا مثبت تعاون فراہم کیا۔
مندی کے باوجود مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیاں متحرک رہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 72 کروڑ 20 لاکھ حصص کا کاروبار ہوا، جبکہ کاروباری مالیت تقریباً 27.9 ارب روپے رہی۔
حجم کے لحاظ سے سینرجی سب سے آگے رہی، جس کے تقریباً 10 کروڑ 30 لاکھ حصص کا کاروبار ہوا۔
سرمایہ کار عالمی تیل کی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کے ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لیتے رہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ توانائی کے اخراجات بڑھا سکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں پاکستان میں مہنگائی پر دباؤ بڑھنے اور درآمدی بل میں اضافے کا خدشہ ہے، خاص طور پر اگر عالمی تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
حالیہ تیزی کے بعد منگل کے کاروبار میں منافع وصولی کا رجحان دوبارہ نمایاں رہا۔ آئندہ سیشنز میں سرمایہ کار عالمی تیل کی قیمتوں، امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور ان عوامل کے پاکستانی معیشت اور کمپنیوں کی آمدنی پر ممکنہ اثرات پر نظر رکھیں گے۔
The Biz Update