کراچی: کراچی کے سائٹ صنعتی علاقے کے صنعتکاروں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی پیداواری لاگت، مہنگی توانائی اور بھاری ٹیکسوں کے باعث صنعتوں کی بقا، برآمدات اور روزگار خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری (SAI) کے صدر عبدالرحمن فدّا نے کہا کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں صنعتی پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستانی صنعتوں کے لیے ملکی اور عالمی مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت صنعتوں کو فعال رکھنا اور روزگار کے مواقع برقرار رکھنا چاہتی ہے یا صنعتکاروں کو اپنی فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
عبدالرحمن فدّا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل کا نظام ختم کیا جائے اور 15 روزہ قیمتوں کا نظام متعارف کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم قیمتوں میں استحکام صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور کاروباری اداروں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس سے کاروبار کو پیداواری لاگت کا درست اندازہ لگانے، مصنوعات کی قیمتیں طے کرنے اور تجارتی معاہدے کرنے میں آسانی ہوگی۔
سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق کاروباری اور صنعتی نمائندے کئی مرتبہ حکومت سے پٹرولیم قیمتوں میں کمی اور موجودہ قیمتوں کے نظام پر نظرثانی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ تاہم، حکومت نے ایک بار پھر ڈیزل کی قیمت میں 3.72 روپے جبکہ پٹرول کی قیمت میں 12.90 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم قیمتوں میں تازہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حکومت برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری لانے اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کے دعوے کر رہی ہے۔
فدّا نے کہا کہ ایک طرف صنعتوں اور برآمدات کے فروغ کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں اور کاروباری سہولت کاری کے وعدے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایسی پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں جو صنعتوں کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل بنا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی مینوفیکچررز اور برآمد کنندگان پہلے ہی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بلند پیداواری لاگت کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق پٹرولیم قیمتوں میں بار بار تبدیلی سے کاروباری اداروں کے لیے پیداواری لاگت کا درست حساب لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مصنوعات کی مسابقتی قیمت مقرر کرنے اور نئے برآمدی و تجارتی معاہدے کرنے میں بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
عبدالرحمن فدّا نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پہلے ہی مشکل حالات سے دوچار ہیں۔ بڑھتی ہوئی لاگت ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ دوسری جانب بڑی صنعتی یونٹس کو بھی اپنی بقا کے لیے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ صنعتی سرگرمیوں میں کمی کا براہ راست اثر روزگار پر پڑے گا۔ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کم ہونے سے معاشرتی مسائل اور عدم تحفظ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
سائٹ صنعتکاروں کے مطابق صنعتیں پہلے ہی بجلی اور گیس کی بلند قیمتوں، پانی کی محدود دستیابی، امن و امان کے مسائل اور بھاری ٹیکسوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
فدّا نے کہا کہ ایسے حالات میں نئے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرنا مشکل ہوگا۔ حکومت کو نئی سرمایہ کاری کی کوششوں کے ساتھ ساتھ موجودہ صنعتوں کو بھی فوری طور پر مستحکم کرنا ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ موجودہ صنعتوں کو فعال رکھنا حکومت کی فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ ایک مضبوط صنعتی شعبہ روزگار پیدا کرنے، برآمدات بڑھانے، معاشی ترقی کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
فدّا نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صنعتیں بند ہونے لگیں تو نئی سرمایہ کاری لانے اور برآمدات بڑھانے کی حکومتی کوششیں بھی مؤثر ثابت نہیں ہوں گی۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ صنعتی لاگت کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور کاروباری طبقے کو ایک مستحکم، واضح اور قابلِ پیش گوئی پالیسی ماحول فراہم کیا جائے۔
The Biz Update