کراچی، 9 ستمبر 2026: ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن نے عالمی یومِ خواندگی 2026 کے موقع پر کراچی میں شمسی توانائی سے چلنے والے ڈیجیٹل مائیکرو اسکول ماڈل کا عملی مظاہرہ کیا، جس کا مقصد پسماندہ علاقوں میں ٹیکنالوجی اور متبادل توانائی کے ذریعے تعلیم کی رسائی بڑھانا ہے۔
یہ ماڈل کراچی کے آرٹس کونسل آف پاکستان میں محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی، حکومت سندھ کے ڈائریکٹوریٹ آف لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن کی جانب سے منعقدہ مرکزی تقریب میں پیش کیا گیا۔
اس سال عالمی یومِ خواندگی کا موضوع “لوگوں، کرۂ ارض اور خوشحالی کے لیے خواندگی” تھا۔ تقریب میں حکومتی نمائندوں، ماہرینِ تعلیم، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ٹی ٹی ڈبلیو ایف کے عملی مظاہرے میں اسکول سے باہر بچوں کے لیے ایک مکمل ڈیجیٹل تعلیمی ماحول پیش کیا گیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ بچے ٹیبلٹس، تعلیمی سافٹ ویئر، انٹرایکٹو مواد اور گیمیفائیڈ سرگرمیوں کے ذریعے بنیادی خواندگی اور عددی مہارتیں حاصل کر سکتے ہیں۔
تربیت یافتہ مقامی سہولت کار بچوں کی رہنمائی کرتے ہیں، جس سے یہ ماڈل روایتی اسکول انفراسٹرکچر کے بغیر بھی کمیونٹی کی سطح پر تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
مظاہرے کی ایک اہم خصوصیت موبائل سولر پاور یونٹ تھا، جس کے ذریعے پورا ڈیجیٹل لرننگ سیٹ اپ چلایا گیا۔ اس اقدام سے ظاہر کیا گیا کہ بجلی کی کمی یا محدود گرڈ رسائی والے علاقوں میں بھی ڈیجیٹل تعلیم جاری رکھی جا سکتی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن کے صدر ارشد انیس نے کہا کہ پاکستان کے تعلیمی مسائل سے نمٹنے کے لیے عملی اور قابلِ توسیع حل کی ضرورت ہے۔
ارشد انیس نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں، اس لیے صرف روایتی حل پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مائیکرو اسکول ماڈل پسماندہ علاقوں تک معیاری تعلیم پہنچانے اور بچوں کو رسمی تعلیمی نظام کی جانب لانے کے لیے ایک قابلِ توسیع نظام فراہم کرتا ہے۔
ٹی ٹی ڈبلیو ایف کے مطابق پاکستان میں ہر 10 میں سے 3 بچے رسمی تعلیمی نظام تک رسائی سے محروم ہیں۔ فاؤنڈیشن کے مطابق ڈیجیٹل مائیکرو اسکول ماڈل ٹیکنالوجی، مقامی سہولت کاروں اور لچکدار تعلیمی نظام کے ذریعے اس خلا کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس ماڈل کے تحت چھوٹی کمیونٹی اسپیسز میں تعلیمی مراکز قائم کیے جاتے ہیں، جہاں بچے جدید تعلیمی سافٹ ویئر سے لیس ٹیبلٹس استعمال کرتے ہیں۔ مختلف شفٹس کے ذریعے ایک ہی مرکز سے روزانہ متعدد گروپس کو تعلیم دی جا سکتی ہے۔
ٹی ٹی ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل تعلیم اور شمسی توانائی کو یکجا کرکے پسماندہ علاقوں میں بنیادی تعلیم کی رسائی بڑھانے کے ساتھ ساتھ بجلی اور انفراسٹرکچر سے متعلق مشکلات کا بھی سامنا کیا جا سکتا ہے۔
The Biz Update