اسلام آباد: بجلی صارفین کو آئندہ ماہ کے بلوں میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں 1.74 روپے فی یونٹ اضافی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے، کیونکہ بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث صارفین سے 16 ارب روپے سے زائد کی اضافی وصولی کی درخواست کی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے منگل کو سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی جانب سے جون 2026 کے بلوں میں صارفین سے 1.73 روپے فی یونٹ اضافی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ وصول کرنے کی درخواست پر عوامی سماعت کی۔
سماعت کے دوران سی پی پی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ریحان اختر نے بتایا کہ اپریل 2026 کے لیے ریفرنس فیول لاگت 8.25 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی، تاہم اصل لاگت 9.975 روپے فی یونٹ رہی۔ ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور اس کے نتیجے میں ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث ایندھن کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے سبب صارفین پر 1.73 روپے فی یونٹ اضافی بوجھ ڈالنے کی ضرورت پیش آئی۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ میں موجود نسبتاً سستے بجلی گھروں سے ملک کے دیگر حصوں میں بجلی کی ترسیل میں تکنیکی رکاوٹیں بھی اضافی فیول لاگت کا سبب بنیں۔ مزید برآں، ایک معمولی منفی فیول ایڈجسٹمنٹ کے خاتمے کے بعد مجموعی اضافہ 1.74 روپے فی یونٹ تک پہنچ جائے گا۔
سی پی پی اے حکام کے مطابق حکومت نے لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے فرنس آئل اور ڈیزل سے بجلی پیدا کرنے کا استعمال محدود رکھا، جس کے نتیجے میں اضافی ایف سی اے کو 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رکھنے میں مدد ملی۔
ریحان اختر نے بتایا کہ ایل این جی کی درآمدات کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے اور حکومت نے عام حالات میں 3,500 روپے فی یونٹ کے بجائے 2,000 روپے فی یونٹ کی لاگت پر ایندھن فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کو کم سے کم رکھا جا سکے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے تصدیق کی کہ کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ K-2 کی کم دستیابی بھی اضافی فیول لاگت کا باعث بنی، جبکہ اس پلانٹ کے 3.4 ارب روپے کے سابقہ کلیمز نے بھی اضافے میں کردار ادا کیا۔
سماعت کے دوران ایک اور سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ K-2 ری ایکٹر میں فنی خرابیوں اور جبری بندشوں کے باعث جزوی طور پر دستیاب رہا، جس سے سستی بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔
نیپرا کو بتایا گیا کہ قومی گرڈ سے کراچی کو بجلی کی فراہمی کا فائدہ نہ صرف کے الیکٹرک کے صارفین بلکہ ملک بھر کے دیگر صارفین کو بھی پہنچا۔ ریحان اختر کے مطابق اگر کے الیکٹرک کو قومی گرڈ سے بجلی فراہم نہ کی جاتی تو اپریل 2026 میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ میں 1.46 روپے فی یونٹ اور کیپیسٹی پرچیز پرائس میں 2.80 روپے فی یونٹ اضافہ ہوتا، جس سے مجموعی طور پر صارفین پر 4.26 روپے فی یونٹ کا اضافی بوجھ پڑتا۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل 2026 میں بجلی کی مجموعی کھپت گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.5 فیصد کم رہی۔ صنعتی شعبے کے سوا تمام صارفین کیٹیگریز میں طلب میں کمی دیکھی گئی۔ صنعتی شعبے میں گیس سے چلنے والے کیپٹو پاور پلانٹس کی بندش اور انکریمنٹل ٹیرف پیکیج کے باعث بجلی کے استعمال میں 13.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے صنعتی صارفین ریحان جاوید، تنویر بیری اور عارف بلوانی نے سماعت کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ انکریمنٹل ٹیرف پیکیج کا ڈیزائن مؤثر نہیں اور اس کے فوائد محدود تعداد میں صارفین تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے پیکیج پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق گھریلو صارفین کی بجلی کھپت میں تقریباً 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کمرشل شعبے میں 9.5 فیصد، جنرل سروسز میں 7.2 فیصد، زرعی شعبے میں 53 فیصد اور بلک صارفین کی کھپت میں تقریباً 13 فیصد کمی دیکھی گئی۔
نیپرا سماعت مکمل ہونے کے بعد درخواست پر اپنا فیصلہ بعد میں جاری کرے گا۔
The Biz Update