کراچی: پاکستان میں چائے کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اگر کینیا کی حکومت کی جانب سے چائے کی برآمدات پر 0.8 فیصد لیوی نافذ کر دی جاتی ہے، تاجروں نے خبردار کیا ہے۔
تاجروں کے مطابق اس اقدام سے درآمدی لاگت میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں پاکستانی مارکیٹ میں چائے کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور درآمد کنندگان کو متبادل منڈیوں کی تلاش پر مجبور ہونا پڑے گا۔
گزشتہ مئی کے آخری ہفتے میں کینیا ہائی کمیشن میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان ٹی ایسوسی ایشن (PTA) کے اراکین، کینیا ٹی بورڈ کے حکام اور کینیا کی وزارتِ سرمایہ کاری، تجارت و صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستانی وفد نے کینیا کی حکومت سے یہ لیوی واپس لینے کی اپیل کی۔
پاکستان ٹی ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد الطاف نے کہا کہ پاکستان کینیا کے چائے کے لیے ایک انتہائی اہم مارکیٹ ہے، جو اس کی سالانہ پیداوار کا تقریباً 36 فیصد درآمد کرتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ذریعے خطے کے دیگر تجارتی مراکز سے بھی بڑی مقدار میں چائے درآمد کی جاتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ لیوی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب پاکستان پہلے ہی خطے کی جغرافیائی صورتحال، بڑھتے ہوئے فریٹ چارجز، پیکجنگ اخراجات اور درآمدی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
محمد الطاف کے مطابق اضافی لیوی سے چائے کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں ملک میں فوڈ انفلیشن مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ چائے پاکستان میں روزمرہ استعمال کی ایک بنیادی شے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں میں اضافے سے مجموعی کھپت میں کمی اور سپلائی چین متاثر ہونے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی درآمد کنندگان سری لنکا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور دیگر افریقی ممالک سے متبادل ذرائع تلاش کر سکتے ہیں۔
پاکستان ٹی ایسوسی ایشن نے کینیا ہائی کمیشن کو یہ مؤقف بھی دیا ہے کہ پاکستان کو برآمد کی جانے والی چائے پر یہ لیوی نافذ نہ کی جائے تاکہ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات متاثر نہ ہوں۔
The Biz Update