اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین (ای یو) نے مضبوط اقتصادی تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس بی پلس) کے تحت تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی کاجا کالاس نے پاکستان کے دورے کے دوران پاکستانی حکام کو جی ایس پی پلس کے نئے ضابطوں سے آگاہ کیا۔ پاکستان نے نئی جی ایس پی پلس اسکیم میں شامل ہونے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جبکہ دونوں فریقین نے اس حوالے سے درکار شرائط پوری کرنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اسلام آباد میں وزارت خارجہ میں منعقدہ آٹھویں پاکستان۔یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور کاجا کالاس نے کی۔
مذاکرات میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، تجارت و سرمایہ کاری، سیکیورٹی تعاون، موسمیاتی تبدیلی، ہجرت اور کثیرالجہتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاجا کالاس نے پاکستان کو خطے کی ایک بڑی طاقت اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور اس کا حجم امریکہ اور چین کی مشترکہ مارکیٹ سے بھی زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت جی ایس پی پلس اسکیم سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے، تاہم اس سہولت کے تسلسل کے لیے بین الاقوامی معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یورپی یونین اچھی حکمرانی، ماحولیاتی تحفظ، مزدوروں کے حقوق اور انسانی حقوق کے شعبوں میں مزید پیش رفت کی توقع رکھتی ہے۔
کاجا کالاس نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین موسمیاتی لچک، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، صاف توانائی، ہجرت اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کر رہے ہیں۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے کردار میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث کئی مواقع پر مکمل جنگ کے خطرات کو ٹالنے میں مدد ملی۔ یورپی یونین نے ان سفارتی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور جنگ بندی کے تسلسل کے لیے سفارتی مواقع موجود ہیں، تاہم پائیدار حل کے لیے ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر اہم معاملات پر وسیع مذاکرات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اپنے اقتصادی اثر و رسوخ، جوہری مہارت اور خلیجی ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر دیرپا حل کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں فریقین نے 2019 کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان (ایس ای پی) کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، ترقی، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، ہجرت، سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 12 ارب یورو تک پہنچ چکا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعاون ایک "ون ون ماڈل” کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے دونوں فریقین کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں جانب سے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے فروغ اور تحفظ کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا، جو بین الاقوامی ذمہ داریوں اور معاہدوں کے مطابق ہے۔
The Biz Update