کراچی، 3 جون 2026: ایچ بی ایل مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (پی ایم آئی )، جو ایس اینڈ پی گلوبل کی جانب سے مرتب کیا جاتا ہے، مئی 2026 میں 49.9 سے بڑھ کر 50.9 پر پہنچ گیا، جس سے مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں بہتری کا اشارہ ملتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ بہتری اتنی حوصلہ افزا نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے، کیونکہ بنیادی معاشی اشاریے امریکی۔ایرانی کشیدگی کے باعث بڑھتے ہوئے جمودی مہنگائی کے خدشات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نئے آرڈرز میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم اس کی رفتار محدود رہی اور طویل مدتی اوسط سے کم رہی۔ دوسری جانب برآمدی آرڈرز میں فروری 2025 کے بعد تیز ترین نمو ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ عالمی منڈیوں میں بہتر ہوتے اعتماد کو قرار دیا گیا۔
اس کے باوجود مجموعی پیداواری حجم تقریباً جمود کا شکار رہا، کیونکہ نئے آرڈرز میں اضافے کے اثرات خام مال کی بڑھتی ہوئی لاگت اور سپلائی میں تاخیر سے متاثر ہوئے۔
مزدوروں کی منڈی میں کمزوری برقرار رہی اور روزگار میں مسلسل دوسرے ماہ کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ طلب میں نرمی بتائی گئی۔ اسی دوران خام مال کی خریداری میں اکتوبر 2025 کے بعد سب سے بڑی کمی دیکھی گئی، کیونکہ صنعتکار مہنگے داموں خام مال خریدنے کے بجائے موجودہ ذخائر استعمال کرنے کو ترجیح دیتے رہے۔
ایچ بی ایل کی ہیڈ آف ایکویٹیز اینڈ ریسرچ حمیرا قمر نے تازہ ترین پی ایم آئی اعدادوشمار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی پیداوار کے حوالے سے کاروباری اعتماد مسلسل چھٹے ماہ بھی کم ہوا اور ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔
انہوں نے کہا کہ صنعتکار مسلسل مہنگائی، خام مال کی بلند قیمتوں اور بڑھتی ہوئی لاگت کو مستقبل کے لیے بڑے خطرات قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ مجموعی پی ایم آئی دوبارہ 50 کی سطح سے اوپر آ گیا ہے، تاہم کاروباری اعتماد میں مسلسل کمی اس بات پر سوال اٹھاتی ہے کہ آیا معاشی سرگرمیوں میں حالیہ استحکام برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔
حمیرا قمر نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں مانیٹری پالیسی بھی غیر یقینی کا ایک اہم عنصر بنی ہوئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پہلے ہی سخت پالیسی اختیار کیے جانے کے بعد شرح سود کا مستقبل مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور وہاں ہونے والی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں جی ڈی پی کے اعدادوشمار کی اشاعت میں تاخیر اکثر پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں کے لیے بروقت فیصلے کرنا مشکل بنا دیتی ہے۔ اگرچہ جی ڈی پی معیشت کی صحت کا بنیادی پیمانہ ہے، لیکن اس کی تاخیر حقیقی وقت میں معاشی تجزیے کی افادیت کم کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس، پی ایم آئی ایک اہم پیشگی اشاریہ ہے جو معاشی سرگرمیوں کی نسبتاً فوری تصویر فراہم کرتا ہے اور مختلف ممالک کے درمیان موازنہ بھی آسان بناتا ہے۔
The Biz Update