اسلام آباد: حکومت نے بجٹ سے قبل ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے چھوٹے تاجروں کے لیے آسان اور سادہ فکسڈ ٹیکس اسکیم (Fixed Tax Asaan Scheme) کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک کے محدود ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہے۔
اس نئی اسکیم کے تحت چھوٹے کاروباری افراد کو معمول کے آڈٹ اور پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم کی لازمی شرائط سے استثنیٰ حاصل ہوگا، تاہم اس کے بدلے انہیں اپنی ظاہر کردہ سالانہ فروخت پر صرف ایک فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ یہ اسکیم اُن کاروباروں پر لاگو ہوگی جن کا سالانہ کاروباری حجم 20 کروڑ روپے تک ہے۔ ٹیکس کی ادائیگی ایک سادہ فارم کے ذریعے کی جائے گی جو تمام مقامی زبانوں میں دستیاب ہوگا۔
یہ اعلان وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبر حماد عتیق سرور کے ریکارڈڈ پیغام کے ذریعے کیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ نیا فریم ورک تاجروں کی تنظیموں اور نمائندوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے، جو آسان ٹیکس نظام کے مطالبے پر مبنی ہے۔
حکومتی اندازے کے مطابق اس اسکیم کے ذریعے 35 سے 40 لاکھ چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے گا، جبکہ اسے معیشت کی دستاویزی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، بغیر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہے نہ کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنا۔
انہوں نے کہا، "ہم ٹیکس نظام کو وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ شرحیں بڑھانے کے بجائے ہم زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لا کر موجودہ ٹیکس دہندگان کا بوجھ کم کرنا چاہتے ہیں۔”
حکام کے مطابق یہ اسکیم مکمل طور پر رضاکارانہ ہوگی اور تاجر چاہیں تو موجودہ عمومی ٹیکس نظام کے تحت بھی کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام ماضی کے تجربات اور تاجروں سے ہونے والی تفصیلی مشاورت کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔
The Biz Update