اسلام آباد: پاکستان پر قرضوں کا بوجھ تیزی سے بڑھنے لگا ہے اور صرف ایک ماہ کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 1.4 کھرب روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی قرضہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 81.93 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں میں 1.406 کھرب روپے کا نمایاں اضافہ ہوا۔ مارچ 2026 کے اختتام پر وفاقی قرضہ 80.52 کھرب روپے تھا جو اپریل کے آخر تک بڑھ کر 81.93 کھرب روپے تک جا پہنچا۔
ماہرین کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران مجموعی قرضوں میں ہونے والے اضافے کا تقریباً 34 فیصد صرف اپریل میں ریکارڈ کیا گیا، جو حکومت کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل قرضوں پر انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں سب سے زیادہ اضافہ بیرونی قرضوں میں ہوا۔ ایک ماہ کے دوران بیرونی قرضہ 882 ارب روپے بڑھ کر 22.96 کھرب روپے سے 23.84 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مارچ تک بیرونی قرضوں میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا تھا، تاہم اپریل میں نئے غیر ملکی قرضوں کے حصول نے اس رجحان کو یکسر تبدیل کر دیا۔
دوسری جانب اندرونی قرضوں میں بھی اضافہ جاری رہا۔ اپریل کے دوران مقامی قرضہ 523 ارب روپے بڑھا اور 57.57 کھرب روپے سے بڑھ کر 58.09 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اندرونی قرضوں میں اضافہ حکومتی سیکیورٹیز اور دیگر مالیاتی ذرائع کے ذریعے مسلسل قرض گیری کا نتیجہ ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونی اور اندرونی قرضوں میں بیک وقت اضافے نے وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کو نئی ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے، جس سے نہ صرف قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ بڑھے گا بلکہ مستقبل میں مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے قرضے ملکی معیشت پر اضافی دباؤ ڈال رہے ہیں اور حکومت کو مالی خسارے پر قابو پانے، آمدنی بڑھانے اور قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
#پاکستان_کا_قرضہ
#قومی_قرضہ
#معیشت_پاکستان
#اسٹیٹ_بینک
#وفاقی_حکومت
#بیرونی_قرضہ
#اندرونی_قرضہ
#مالیاتی_بحران
#پاکستان_اکانومی
#EconomicCrisis
#PakistanDebt
#SBP
#FiscalPressure
#BusinessNews
#BreakingNews
#PakistanEconomy
#DebtBurden
#FinanceNews
#EconomicUpdate
#BudgetDeficit
The Biz Update