پیر , جون 29 2026
تازہ ترین
ایف پی سی سی آئی نے سندھ میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس میں اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار

ایف پی سی سی آئی نے سندھ میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس میں اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار

کراچی (6 اگست 2025): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے سندھ میں درآمدات پر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (IDC) کی شرح میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق سیس کو 1.25 فیصد سے بڑھا کر 1.80 تا 1.85 فیصد کر دینا بزنس کمیونٹی پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

یہ بات سندھ کے وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس مکیش کمار چاولہ کے دورہ فیڈریشن ہاؤس کراچی کے دوران منعقدہ تفصیلی مشاورتی اجلاس میں سامنے آئی۔ اجلاس میں کاروباری برادری نے سیس کے قانونی جواز، سندھ میں انفراسٹرکچر کی بدحالی اور محصولات کے مبینہ غیر شفاف استعمال جیسے امور پر تحفظات کا اظہار کیا۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے سولر پینلز پر سے سیس ختم کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے تجویز دی کہ اگر کاروباری ادارے عدالتوں میں زیرِ التوا IDC مقدمات واپس لے لیں تو حکومت سیس کو 1.85 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنے اور اگلے تین سال تک برقرار رکھنے پر آمادہ ہو سکتی ہے۔

نمبر پلیٹس کی تاخیر سے فراہمی پر سوال کے جواب میں مکیش چاولہ نے کہا کہ آئندہ ہفتے دو لاکھ نمبر پلیٹس موصول ہو جائیں گی۔ مزید یہ کہ حکومت سوک سینٹر کراچی میں پلیٹ تیار کرنے والا پلانٹ بھی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے اس بات کو مثبت پیش رفت قرار دیا کہ حکومت اور بزنس کمیونٹی کے درمیان بات چیت جاری ہے؛ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بزنس برادری کو ٹھوس نتائج اور شفاف اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بھی سولر پینلز پر سے IDC ہٹانے کا مطالبہ دہرایا۔

ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر و ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمہیمن خان نے زور دیا کہ عالمی برآمدی منڈیوں میں سخت مقابلہ ہے، اور خام مال پر سیس جیسے اقدامات پیداواری لاگت بڑھا کر برآمدات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (EFS) کے تحت درآمد ہونے والے خام مال کو IDC سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، کیونکہ یہ برآمدی مصنوعات کے لیے مخصوص ہوتا ہے اور سیس اس پالیسی کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل (ریٹائرڈ)، سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی نے بھی اجلاس میں تمام فریقین پر زور دیا کہ معیشت کے وسیع تر مفاد میں افہام و تفہیم کے ذریعے پائیدار حل تلاش کیا جائے۔

Please follow and like us:
Pin Share

About admin

Check Also

ایک ماہ میں 1.4 کھرب روپے کا اضافہ، وفاقی حکومت کا قرض 82 کھرب روپے کے قریب پہنچ گیا

ایک ماہ میں 1.4 کھرب روپے کا اضافہ، وفاقی حکومت کا قرض 82 کھرب روپے کے قریب پہنچ گیا

اسلام آباد: پاکستان پر قرضوں کا بوجھ تیزی سے بڑھنے لگا ہے اور صرف ایک …

آئندہ بجٹ میں درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر 25 فیصد تک سیلز ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

بجٹ میں درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر 25 فیصد تک سیلز ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں درآمدی الیکٹرک گاڑیوں (ای …

حکومت کا غیر تعمیل کنندہ ٹیکس دہندگان کے لیے ریفنڈ ادائیگیوں پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ

حکومت کا غیر تعمیل کنندہ ٹیکس دہندگان کے لیے ریفنڈ ادائیگیوں پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ٹیکس قوانین اور ڈیجیٹل نظام کی عدم تعمیل کرنے والے …

چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کا اعلان، سالانہ 1 فیصد ٹیکس پر نیا نظام متعارف

چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کا اعلان، سالانہ 1 فیصد ٹیکس پر نیا نظام متعارف

اسلام آباد: حکومت نے بجٹ سے قبل ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے چھوٹے تاجروں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

RSS
LinkedIn
Share