کراچی: کراچی انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل پر 38 ہزار سے زائد کنٹینرز کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے، جس پر کسٹمز حکام نے وارننگ جاری کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
کلیکٹرٹ آف کسٹمز اپریسمنٹ ویسٹ نے کے آئی سی ٹی کے سی ای او نوید قریشی کو نوٹس بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کنٹینرز کی گراؤنڈنگ میں تاخیر، محدود جگہ اور کمزور انتظامات سے پورٹ کلیئرنس متاثر ہو رہی ہے۔ صرف جنوری 2026 میں 10 ہزار سے زائد کنٹینرز بیک لاگ میں شامل ہوئے۔
حکام کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران کارگو حجم میں 13.54 فیصد اضافہ ہوا جبکہ معائنے کے لیے منتخب کنٹینرز کی تعداد میں 31.25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم ٹرمینل نے اسٹوریج، آلات یا عملے میں اضافہ نہیں کیا۔
معائنے کے لیے منتخب کنٹینرز کو 8 سے 10 دن کی تاخیر کا سامنا ہے۔ معائنہ ایریا تقریباً 200 کنٹینرز کی گنجائش رکھتا ہے جبکہ روزانہ تقریباً 300 کنٹینرز کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے رش بڑھ رہا ہے۔ کسٹمز نے FIFO نظام پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔
تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ تاخیر کی وجہ سے ڈیمریج اور کرایہ کی مد میں مالی نقصان ہو رہا ہے۔ آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ 24 گھنٹے میں گراؤنڈنگ کی جائے اور تین دن سے زیادہ تاخیر پر چارجز معاف کیے جائیں۔
حکام نے عملے کی کمی کو بھی مسئلے کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ حل کرنے کے لیے بہتر رابطہ کاری اور اضافی عملے کی ضرورت ہے۔
The Biz Update