کراچی، 16 فروری 2026: (ایس بی پی) نے اپنے وژن 2028 کے تحت “سائبر شیلڈ – ریگولیٹڈ اداروں کے لیے سائبر ریزیلینس اسٹریٹجی” کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے بینکاری اور مالیاتی نظام کو سائبر خطرات سے مزید محفوظ بنانا ہے۔
یہ حکمتِ عملی بینکوں اور مالیاتی اداروں کو بڑھتے ہوئے سائبر حملوں سے بچانے کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ عوام اور کاروباری ادارے بلا تعطل اور محفوظ انداز میں مالی خدمات تک رسائی حاصل کر سکیں۔
ایس بی پی کے مطابق یہ اسٹریٹجی مالیاتی اداروں کے لیے ایک جامع روڈمیپ فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے سسٹمز اور کنٹرولز کو مضبوط بنا سکیں گے، سائبر حملوں کی روک تھام کر سکیں گے، خطرات کی صورت میں فوری ردعمل دے سکیں گے اور کسی بھی واقعے کے بعد مؤثر بحالی کو یقینی بنا سکیں گے۔
بینکاری شعبہ کو درپیش پیچیدہ سائبر خطرات کے پیشِ نظر، اس حکمتِ عملی میں پانچ اہم ترجیحات شامل ہیں: بینکوں کی سائبر حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا، سائبر سیکیورٹی میں گورننس اور جوابدہی بہتر بنانا، مالیاتی شعبے میں تعاون اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا، ماہر سائبر افرادی قوت تیار کرنا، اور نئے خطرات کے مطابق سیکیورٹی اقدامات کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ وہ عالمی اور مقامی سطح پر سائبر خطرات پر کڑی نظر رکھے گا اور ضرورت پڑنے پر اس حکمتِ عملی کو اپ ڈیٹ کرے گا۔ اس اقدام کے ذریعے ایس بی پی کا مقصد صارفین کا تحفظ، محفوظ ڈیجیٹل جدت کی حمایت اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
The Biz Update