اسلام آباد، 7 اگست 2025: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اندرونی معلومات کی بنیاد پر شیئرز کی خرید و فروخت (انسائیڈر ٹریڈنگ) میں مبینہ ملوث ہونے پر ایک فہرست شدہ کمپنی کے سیکریٹری، اس کے چار قریبی رشتہ داروں اور ایک نجی کمپنی کے خلاف فوجداری شکایت درج کر دی ہے۔ یہ شکایت سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کے تحت مکمل کی گئی تحقیقات کے بعد اسپیشل کورٹ (بینکوں میں جرائم)، سندھ کراچی میں دائر کی گئی، جسے عدالت نے شکایت نمبر 14/2025 کے طور پر قبول کر لیا ہے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ افراد نے 22 اگست 2023 سے 12 اکتوبر 2023 کے درمیان اس وقت کمپنی کے شیئرز خریدے جب مارکیٹ میں کمپنی کے شیئر بائی بیک اور ڈی لسٹنگ کی معلومات عوامی سطح پر دستیاب نہیں تھیں۔ ایس ای سی پی نے ان معلومات کو "اندرونی معلومات” قرار دیا، اور اس بنیاد پر انسائیڈر ٹریڈنگ کے خدشات پیدا ہوئے، جس پر باقاعدہ انکوائری شروع کی گئی۔
ایس ای سی پی کے مطابق کمپنی سیکریٹری کو 11 اگست 2023 سے ان حساس معلومات تک رسائی حاصل تھی اور وہ بطور ذمہ دار افسر ڈی لسٹنگ کے عمل میں براہِ راست شامل تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے یہ اہم اور غیر عوامی معلومات اپنے قریبی رشتہ داروں اور ایک منسلک کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو فراہم کیں۔ مزید یہ کہ اس نے ان رشتہ داروں کو شیئرز کی خریداری کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی، جس سے انسائیڈر معلومات کی بنیاد پر غیر قانونی منافع کمایا گیا۔
جب کمپنی کی بائی بیک اور ڈی لسٹنگ کی معلومات باضابطہ طور پر عام ہوئیں اور حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، تو ملزمان نے خریدے گئے شیئرز مارکیٹ میں فروخت کیے، جس سے انہوں نے مجموعی طور پر 338.085 ملین روپے کا ناجائز منافع حاصل کیا۔ تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ان افراد کا اس سے قبل اس کمپنی کے شیئرز میں کوئی تجارتی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کے تحت انسائیڈر ٹریڈنگ ایک فوجداری جرم ہے، جس کی سزا تین سال تک قید، دو سو ملین روپے جرمانہ یا غیر قانونی منافع کے تین گنا تک جرمانہ ہو سکتی ہے۔
ایس ای سی پی نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ملک کی کیپیٹل مارکیٹ کی شفافیت، سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ، اور بدعنوانی کے خلاف مؤثر نگرانی اور قانونی کارروائی کو یقینی بنائے گا۔
The Biz Update