اسلام آباد، 7 اگست 2025: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے میوچل فنڈز انڈسٹری کو مضبوط بنانے اور مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے متعدد اصلاحاتی اور ترقیاتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
ایس ای سی پی ہیڈکوارٹرز میں پریس بریفنگ کے دوران کمشنر جناب ذیشان رحمٰن خٹک نے سرمایہ کاروں کے تحفظ، آپریشنل استعداد کار، اور عالمی معیارات کے مطابق ریگولیٹری ہم آہنگی کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کے مالیاتی شعبے میں جدت کے فروغ کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کو مرکزی عنصر قرار دیا۔
اصلاحات میں ایک اہم قدم ڈیجیٹل ایسیٹ مینجمنٹ کمپنیز (AMC) کے فریم ورک کا اجرا ہے، جس کے تحت کم از کم سرمایہ اور فنڈ سائز کی حد میں کمی، مکمل ڈیجیٹل آن بورڈنگ، اور آپریشنز میں سہولت فراہم کی گئی ہے، تاکہ مالیاتی خدمات تک آسان رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایس ای سی پی نے ایک انقلابی اقدام کے تحت میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان (MUFAP) کو ایس ای سی پی ایکٹ 1997 کے تحت سیلف ریگولیٹری آرگنائزیشن (SRO) کے طور پر رجسٹر کر لیا ہے۔ یہ ملک کی مالیاتی خدمات کی صنعت میں پہلی بار کسی ادارے کو یہ حیثیت دی گئی ہے۔ MUFAP اب ضابطہ سازی، اراکین کی تعمیل اور سرمایہ کاروں کی آگاہی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
میوچل فنڈز انڈسٹری کے مستقبل کے لائحہ عمل کی تشکیل کے لیے، ایس ای سی پی نے صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک وائٹ پیپر تیار کیا ہے، جس میں ڈیجیٹل تبدیلی، ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs)، ESG اور انفراسٹرکچر فنڈز کے اجراء، اور مالی شمولیت بڑھانے سے متعلق تجاویز شامل ہیں۔ یہ وائٹ پیپر ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، ETF مارکیٹ کی ترقی اور سرمایہ کاروں کی شراکت داری میں اضافے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔
ایس ای سی پی کے یہ اقدامات پاکستان میں سرمایہ مارکیٹ کو مستحکم، جدید اور سب کے لیے قابل رسائی بنانے کے لیے ایک جامع اور فعال حکمت عملی کا مظہر ہیں۔
The Biz Update