کراچی (6 اگست 2025): لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسزکی ایک آزاد اور غیر جانبدار تحقیق کے مطابق، فوڈپانڈا نے مالی سال 2023-24 کے دوران پاکستانی معیشت میں 1.2 ارب امریکی ڈالر (تقریباً 335 ارب روپے) کا مثبت اثر ڈالا ہے۔
یہ تحقیق "پاکستان میں فوڈپانڈا کا معاشی اثر” کے عنوان سے جاری کی گئی، جو اپنی نوعیت کی پہلی جامع رپورٹ ہے۔ اس میں بنیادی و ثانوی ڈیٹا کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت کے ان پٹ آؤٹ پٹ ماڈلز استعمال کیے گئے تاکہ فوڈپانڈا کے اثرات کا تکنیکی تجزیہ کیا جا سکے۔
تحقیق سے پتا چلا کہ فوڈپانڈا کی بدولت خوراک، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ اور ریٹیل سمیت مختلف شعبوں میں واضح بہتری آئی۔ صرف ایک سال میں پلیٹ فارم نے 75 ارب روپے ریسٹورنٹ جی ایم وی کے ذریعے فراہم کیے، 9.76 ارب روپے ٹیکس ادا کیے اور 50,000 سے زائد رائیڈرز اور متعدد کاروباری افراد کو روزگار اور آمدنی کے مواقع فراہم کیے۔
فوڈپانڈا پاکستان کے سی ای او منتقٰی پراچہ نے اس رپورٹ کو فوڈپانڈا کی معیشت میں اہم شراکت کا "واضح ثبوت” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، "یہ تحقیق ہمارے کاروباری اثرات، ملازمتوں کی تخلیق، آمدنی میں اضافے اور سماجی و مالی شمولیت کے عزم کو مزید تقویت دیتی ہے۔”
LUMS کے شعبہ معاشیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کاشف زیڈ ملک نے کہا، "فوڈپانڈا کا کردار صرف ڈیلیوری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مضبوط ڈیجیٹل معیشت، چھوٹے کاروباروں کی ترقی اور مالی شمولیت کے فروغ میں اہم ستون بن چکا ہے۔”
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ:
- 13,000 سے زائد ریسٹورنٹس کی آمدنی میں 100 فیصد اضافہ ہوا
- 7,000 سے زائد ہوم شیفس (زیادہ تر خواتین) کی اوسط ماہانہ آمدنی PKR 120,000 تک پہنچی
- 57 فیصد رائیڈرز کی آمدنی میں نمایاں بہتری آئی
تحقیق میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ فوڈپانڈا نے نہ صرف ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دیا بلکہ کاروباروں، خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنا کر ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
The Biz Update