کراچی، 6 اگست 2026: سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے زیر اہتمام منعقدہ مائننگ ٹیکنیکل کانفرنس 2026 میں حکومت، کان کنی کی صنعت، جامعات اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے پاکستان کے معدنی شعبے کی ترقی کے لیے باہمی تعاون، افرادی قوت کی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر اتفاق کیا۔
"تعاون، جدت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کے معدنی شعبے کی ترقی” کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومتی اداروں کے درمیان مستقل اشتراک کے بغیر معدنی وسائل سے بھرپور فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے وسیع معدنی ذخائر روزگار، صنعتی ترقی اور قومی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی ترقی ذمہ دارانہ سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے ذریعے کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے کوئلے کے استعمال سے ملک کو اب تک 3.2 ارب ڈالر کے ایندھن درآمدی اخراجات کی بچت ہوئی ہے۔
ایس ای سی ایم سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر اقبال نے کہا کہ پاکستان کے معدنی شعبے کی ترقی کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں، بلکہ حکومت، صنعت، جامعات اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری ناگزیر ہے۔
کانفرنس میں ریکوڈک مائننگ کمپنی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبکو، فوجی گروپ، لکی سیمنٹ، کوماتسو، ڈی ایم ٹی جرمنی اور دیگر ملکی و غیرملکی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تکنیکی سیشنز میں مصنوعی ذہانت (AI)، آٹومیشن، ڈیجیٹل مائننگ، جدید مشینری، ESG، معدنی تلاش اور آپریشنل بہتری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ انجینئرز، جیولوجسٹس، ڈیٹا ماہرین اور دیگر فنی افرادی قوت کی تربیت بھی ضروری ہے۔
کانفرنس میں قومی مائننگ انڈسٹری پلیٹ فارم کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی تاکہ تحقیق، علم کے تبادلے، مہارتوں کی ترقی اور پالیسی سازی میں مشترکہ تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ شرکا نے مائننگ ٹیکنیکل کانفرنس کو ہر سال منعقد کرنے کی بھی سفارش کی۔
کانفرنس کا متفقہ پیغام تھا کہ مضبوط شراکت داری، جدید مہارتوں کی ترقی اور ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال ہی پاکستان کے معدنی شعبے کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لا سکتا ہے۔
The Biz Update