جمعرات , جون 4 2026
تازہ ترین
برآمدات 25 تا 30 ارب ڈالر پر جمود کا شکار، وزارتِ تجارت نے مہنگی توانائی، ٹیکسوں اور مالیاتی رکاوٹوں کو ذمہ دار قرار دے دیا
برآمدات 25 تا 30 ارب ڈالر پر جمود کا شکار، وزارتِ تجارت نے مہنگی توانائی، ٹیکسوں اور مالیاتی رکاوٹوں کو ذمہ دار قرار دے دیا

برآمدات 25 تا 30 ارب ڈالر پر جمود کا شکار، وزارتِ تجارت نے مہنگی توانائی، ٹیکسوں اور مالیاتی رکاوٹوں کو ذمہ دار قرار دے دیا

اسلام آباد: حکومت کے 60 ارب ڈالر برآمدات کے ہدف پر مبنی "اڑان پاکستان” پروگرام کے باوجود ملک کی برآمدات تاحال جمود کا شکار ہیں۔ وزارتِ تجارت نے منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کو بتایا کہ اینٹی ایکسپورٹ ٹیکسز، توانائی اور فنانسنگ کی بلند لاگت اور دیگر ساختی مسائل پاکستان میں کاروبار کی لاگت بڑھا رہے ہیں، جس کے باعث برآمدی شعبہ مطلوبہ ترقی حاصل نہیں کر سکا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک کی برآمدات سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کی برآمدی آمدن گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے 25 سے 30 ارب ڈالر کے درمیان محدود ہے۔

توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرنے والی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے سوال اٹھایا کہ "اڑان پاکستان” پروگرام کے تحت 60 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم پروگرام کے آغاز کے ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیوں نہیں ہو سکا۔

اجلاس کے دوران برآمدی کارکردگی اور برآمدی شعبے کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیکریٹری وزارتِ تجارت نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کی لاگت، فنانسنگ، ٹیکسیشن، پیداواری صلاحیت اور مجموعی معاشی ماحول برآمدی مسابقت کو متاثر کرنے والے اہم عوامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے دو بنیادی عناصر، یعنی مسابقت (Competitiveness) اور پیداواری صلاحیت (Productivity)، ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق مسابقت بڑھانے کے لیے کاروباری لاگت کم کرنا ضروری ہے، جس میں سستے خام مال، کم توانائی نرخ، کم ٹرانسپورٹ اخراجات، کم لاگت فنانسنگ اور معاون ٹیکس نظام کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

سیکریٹری تجارت نے کہا کہ پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بعض مالیاتی پابندیاں موجود ہیں، جس کے باعث ٹیکسوں میں کمی کے فیصلوں کو دیگر معاشی ترجیحات کے ساتھ متوازن رکھنا پڑتا ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ "مثالی طور پر میں برآمدات پر صفر ٹیکس کی سفارش کروں گا”، تاہم برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے تمام عوامل کو یکجا طور پر حل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ برآمدات کے فروغ کا دوسرا اہم ستون ہے، کیونکہ عالمی منڈیوں میں مؤثر مقابلے کے لیے مقامی صنعتوں کی استعداد اور کارکردگی بہتر بنانا ناگزیر ہے۔

وزارتِ تجارت نے کمیٹی کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ پاکستان میں کاروباری لاگت بڑھانے والے بڑے عوامل میں ٹیکس نظام میں برآمدات مخالف رجحان، کاروبار کے لیے مالی وسائل تک محدود رسائی، صنعتی مسابقت کو متاثر کرنے والی مہنگی توانائی، اور تجارتی سہولتوں کا فقدان شامل ہیں، جس کے باعث تعمیل (Compliance) کے اخراجات اور لین دین کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔

کمیٹی نے برآمدات کے فروغ اور کاروباری ماحول میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے سفارشات طلب کر لیں۔

Please follow and like us:
Pin Share

About admin

Check Also

بجٹ 2026-27 میں کرپٹو کرنسی پر ٹیکس لگانے کی تیاری، حکومت جامع قانونی فریم ورک متعارف کرانے پر غوراں

بجٹ 2027: حکومت کا کرپٹو کرنسی لین دین کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا امکان

اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں فنانس بل کے ذریعے …

پاکستان اور یورپی یونین کا جی ایس پی پلس تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

پاکستان اور یورپی یونین کا جی ایس پی پلس تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین (ای یو) نے مضبوط اقتصادی تعلقات کی اہمیت پر …

گلف ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سعودی ریال اور اماراتی درہم شامل

گلف ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سعودی ریال اور اماراتی درہم شامل

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے …

کاروباری برادری کا وزیراعظم سے ٹیکس ریلیف اور اصلاحات کا مطالبہ

کاروباری برادری کا وزیراعظم سے ٹیکس ریلیف اور اصلاحات کا مطالبہ

اسلام آباد: آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل ملک بھر کی کاروباری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

RSS
LinkedIn
Share