اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ٹیکس قوانین اور ڈیجیٹل نظام کی عدم تعمیل کرنے والے ٹیکس دہندگان، بالخصوص برآمدکنندگان کے لیے ایف اے ایس ٹی ای آر (FASTER) ریفنڈ سسٹم کے تحت ادائیگیوں پر بڑی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ 2026-27 میں اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کا امکان ہے، جسے ٹیکس نفاذ اور ڈیجیٹل اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
نئے فیصلے کے تحت ریفنڈ ادائیگیوں کو ڈیجیٹل انیشی ایٹوز کی تعمیل سے مشروط کر دیا جائے گا، جن میں پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم، ڈیجیٹل آئی سسٹم، اور سیلز ٹیکس ڈیجیٹل انوائسنگ شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی آر (FASTER) ریفنڈ سسٹم میں نیا رسک پیرامیٹر شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ٹیکسٹائل، لیدر، سرجیکل آلات، قالین اور کھیلوں کی مصنوعات سمیت پانچ بڑے برآمدی شعبوں میں ڈیجیٹل کیمروں اور مانیٹرنگ سسٹمز کی تنصیب کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اقدام ان ایکسپورٹرز پر بھی لاگو ہوگا جو مقامی مارکیٹ میں سپلائی میں بھی شامل ہیں۔ جو کاروبار ڈیجیٹل انوائسنگ یا پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب نہیں کریں گے، انہیں ایف اے ایس ٹی ای آر سسٹم کے تحت ریفنڈ حاصل نہیں ہو سکے گا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پہلے ہی بوتل بند پانی کے تمام مینوفیکچررز کے لیے 15 جون 2026 تک الیکٹرانک پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے کی ڈیڈ لائن جاری کر چکا ہے۔
اسی طرح یہ نظام پیک شدہ دودھ، آئرن اینڈ اسٹیل، آئل اینڈ گھی اور دیگر صنعتی شعبوں میں بھی لازمی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس میں بھی اس کی تنصیب جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف اے ایس ٹی ای آر نظام کے تحت ماہانہ تقریباً 30 سے 40 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز پانچ بڑے برآمدی شعبوں کو ادا کیے جاتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل تعمیل کے بغیر کسی بھی رجسٹرڈ فرد کو ریفنڈ کی ادائیگی ممکن نہیں ہوگی۔
The Biz Update