جمعرات , جون 11 2026
تازہ ترین
پاکستان میں آن لائن شاپنگ میں اے آئی کا بڑھتا ہوا کردار، ویزا اسٹڈی میں اہم انکشافات
پاکستان میں آن لائن شاپنگ میں اے آئی کا بڑھتا ہوا کردار، ویزا اسٹڈی میں اہم انکشافات

82 فیصد پاکستانی شاپنگ کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں

کراچی: پاکستان میں صارفین تیزی سے مصنوعی ذہانت (AI) کی جانب راغب ہو رہے ہیں اور خریداری کے فیصلوں میں اے آئی ٹولز کا استعمال نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، جس سے ملک میں ڈیجیٹل شاپنگ کے رجحانات میں بڑی تبدیلی سامنے آ رہی ہے۔

ویزا کی جانب سے جاری کردہ سالانہ Stay Secure اسٹڈی، جو Wakefield Research نے تیار کی، کے مطابق پاکستان میں 82 فیصد صارفین آن لائن خریداری کے دوران اے آئی ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔ ان ٹولز کا سب سے زیادہ استعمال قیمتوں کا موازنہ کرنے (56 فیصد)، مصنوعات کے ریویوز اور ریٹنگز چیک کرنے (53 فیصد)، اور تحفے کے آئیڈیاز تلاش کرنے (47 فیصد) کے لیے کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 93 فیصد صارفین کا ماننا ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز، خاص طور پر اے آئی ٹولز، نے آن لائن شاپنگ کو پہلے سے زیادہ تیز اور آسان بنا دیا ہے۔ اسی طرح 55 فیصد صارفین کا کہنا ہے کہ وہ آن لائن خریداری کے دوران نئی برانڈز اور ریٹیلرز سے بھی متعارف ہو رہے ہیں۔

تاہم جب بات مکمل طور پر خودکار خریداری یا اے آئی ایجنٹس کے ذریعے چیک آؤٹ کی آتی ہے تو صارفین محتاط نظر آتے ہیں۔ صرف 42 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اے آئی پر اعتماد کریں گے کہ وہ ان کی جانب سے خریداری مکمل کرے۔

اسٹڈی میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سوشل میڈیا پر خریداری کا رجحان عام ہو چکا ہے، اور 82 فیصد صارفین نے سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے براہ راست مصنوعات خریدی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل تجارت کے ساتھ ساتھ آن لائن فراڈ کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ 55 فیصد صارفین نے بتایا کہ انہیں گزشتہ 12 ماہ میں کسی نہ کسی مالی دھوکے کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سے 44 فیصد واقعات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے۔

ایک اور اہم پہلو بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق ہے، جہاں 77 فیصد صارفین کا کہنا ہے کہ ان کے اردگرد بچے آن لائن فراڈ کو پہچاننے میں مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ 33 فیصد نے بتایا کہ وہ کسی بچے کو آن لائن اسکام کا شکار ہوتے دیکھ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 44 فیصد والدین نے اعتراف کیا کہ ان کے بچوں کو موبائل پیمنٹ ایپس یا ڈیجیٹل والٹس تک رسائی حاصل ہے، جس سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال بڑھ رہا ہے لیکن ساتھ ہی خطرات بھی موجود ہیں۔

فراڈ سے بچاؤ کی ذمہ داری کے حوالے سے 49 فیصد صارفین کا کہنا ہے کہ ادائیگی فراہم کرنے والے ادارے اور آن لائن مارکیٹ پلیسز کو بنیادی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے، جبکہ 36 فیصد نے حکومت اور ریگولیٹری اداروں، اور 31 فیصد نے بینکوں کو ذمہ دار قرار دیا۔ صرف 13 فیصد افراد کا خیال ہے کہ صارفین خود اس معاملے میں بنیادی ذمہ داری رکھتے ہیں۔

یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اعتماد، تحفظ اور سائبر سیکیورٹی کے چیلنجز بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

Please follow and like us:
Pin Share

About admin

Check Also

Pakistani Flavors Shine at Chinese New Year Fair

نئے چینی سال کے میلے میں پاکستانی ذائقوں کی مقبولیت

چھونگ چھنگ (شِنہوا): چین کے روایتی بہار تہوار، جسے بھی کہا جاتا ہے، کی آمد …

کے الیکٹرک کے کراچی بھر میں 6 فیسلیٹیشن کیمپس، 2 کروڑ 30 لاکھ روپے کی ریکوری

کے الیکٹرک کے کراچی بھر میں 6 فیسلیٹیشن کیمپس، 2 کروڑ 30 لاکھ روپے کی ریکوری

کراچی، 12 فروری 2026: کے الیکٹرک (کے ای) نے اپنے سروس ایریا کے مختلف علاقوں …

Governor SBP Calls for Scaling Up Zarkheze to Expand Agricultural Credit Outreach

گورنر اسٹیٹ بینک کی زر خیز پلیٹ فارم کو وسعت دینے کی ہدایت، زرعی قرضوں کی رسائی بڑھانے پر زور

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جناب جمیل احمد نے زرعی …

SECP Facilitates Landmark Foreign Direct Investment in Insurance Sector

ایس ای سی پی کی انشورنس سیکٹر میں تاریخی غیر ملکی سرمایہ کاری کی سہولت

اسلام آباد، 11 فروری: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

RSS
LinkedIn
Share