* دی گریٹ پاکستان ایڈونچر کی دوسری قسط چولستان میں حوصلے، بحالی اور بقا سے جڑی بھولی بسری داستانوں کو سامنے لاتی ہے
کراچی، 26 مئی، 2026۔ پاکستان میں کچھ خطے ایسے بھی ہیں جہاں زمین کا پھیلاؤ لامتناہی محسوس ہوتا ہے، جہاں زندگی کا دارومدار ثابت قدمی پر ہے، اور ان خطوں کی کہانیاں صدیوں پرانی ریت کی طرح وقت کی تہوں میں بسی ہوئی ہیں۔ یہاں صحرا صرف زمین کی ساخت نہیں بناتا بلکہ اُن لوگوں کی شخصیت بھی تراشتا ہے جو اس کے سخت ماحول میں جینا سیکھ لیتے ہیں۔ بی واےڈی کے تعاون سے پیش کی جانے والی دی گریٹ پاکستان ایڈونچر کی دوسری قسط ڈیزرٹ اٹلس (The Great Pakistan Adventure – Desert Atlas) ناظرین کو چولستان کے قلب میں لے جاتی ہے اور پاکستان کے ایک ایسے رخ سے روشناس کراتی ہے جسے کم ہی اس انداز اور گہرائی سے دکھایا گیا ہے۔
بلند و بالا ریت کے ٹیلے، سنہری افق، ریت میں گم ہوتی پگڈنڈیاں، میلوں دور سے دکھائی دیتا قلعہ دراوڑ، اور صحرا کی خاموشی میں گونجتی موسیقی میں یہ سب صرف مناظر ہی نہیں ہیں بلکہ صبر، زندگی سے بحالی اور اُن لوگوں کی کہانی ہے جن کی شناخت پاکستان کے مشکل ترین خطوں میں پروان چڑھی۔ ڈیزرٹ اٹلس محض ایک سفری تجربے سے بڑھ کر چولستان کی تاریخ، ثقافت اور روح کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔
بلال حسن، کے نام سے زیادہ جانے جاتے ہیں، ایک معروف کانٹینٹ کریئیٹر، رائٹر اور فوٹو جرنلسٹ ہیں، اور وہ پاکستان بھر میں سفر، ثقافت اور روزمرہ زندگی کو اپنے منفرد انداز میں دستاویزی شکل دیتے رہے ہیں۔ یہی اندازِ کہانی انہیں اس سفر کے لیے ایک قدرتی انتخاب بناتا ہے۔ اس قسط میں وہ چولستان اور بہاولپور کے اُن پہلوؤں کو سامنے لاتے ہیں جو وسیع صحرا اور اس کی سختیوں کے پیچھے اکثر اوجھل رہ جاتے ہیں۔ بلال کی نظر سے دیکھا جائے تو صحرا صرف ایک دشوار خطہ ہی نہیں بلکہ حوصلے، لوک داستانوں، موسیقی اور انسانی جذبات کا جیتا جاگتا خزانہ بن کر سامنے آتا ہے جس کو چند ہی محسوس کرپاتے ہیں۔
اس قسط کا ایک نہایت پراثر حصہ بلیک بک ہرن کی بحالی کی کہانی ہے، جو پاکستان میں معدومی کے قریب پہنچ چکا تھا۔ جنوبی ایشیا کے بڑے نیشنل پارکس میں شمار ہونے والے لال سوہانرا نیشنل پارک کے وسیع مناظر میں یہ کہانی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اگر لوگ ہمت نہ ہاریں تو سخت ترین خطے بھی زندگی کی حفاظت کر سکتے ہیں۔
یعقوب انور، اسسٹنٹ ڈائریکٹر وائلڈ لائف، چنکارا اور بلیک بک بریڈنگ سینٹر، نے بتایا، ”بلیک بک ہرن ایک سماجی جانور ہے جو اپنے ریوڑ کے ساتھ رہتا ہے اور اپنے کھروں کے ذریعے اپنی حدود کا تعین کرتا ہے۔ ہر ریوڑ کا ایک غالب نر ہوتا ہے جو اپنی مضبوط شخصیت اور انداز سے نمایاں نظر آتا ہے۔ لیکن جب کوئی دوسرا غالب نر اس کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو لڑائیاں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی پیش آتے ہیں، جن کی نگرانی اور دیکھ بھال ضروری ہوتی ہے تاکہ ان جانوروں کی افزائش صحت مند انداز میں جاری رہ سکے۔”
اس قسط میں اور بھی بہت کچھ شامل ہے، خاص طور پر مشہور چولستان ڈیزرٹ ریلی۔ اس ریلی نے اس صحرا کو پاکستان کے نمایاں آف روڈ مقامات میں شامل کر دیا ہے۔ اس سفر میں بلال کے ساتھ پروفیشنل ریلی ڈرائیور محمد مروت بھی شامل ہیں، جو برسوں سے اس ریلی کا حصہ رہے ہیں اور صحرا کے راستوں سے بخوبی واقف ہیں۔ محمد مروت نہایت مہارت سے بی واے ڈی شارک 6 کو نرم پھسلتی ریت پر چلاتے ہیں، جہاں گاڑی کی طاقت، کنٹرول اور آف روڈ صلاحیت نمایاں طور پر سامنے آتی ہے۔
اس پورے سفر کے دوران بی واے ڈی شارک 6 کو چولستان کے سخت ترین راستوں پر آزمایا جاتا ہے۔ گاڑی کا خصوصی سینڈ موڈ بدلتی ریت اور نرم سطحوں پر بہتر گرفت اور کنٹرول برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ دن ڈھلنے کے بعد اس کی طاقتور ہیڈلائٹس چولستان کے تاریک اور ویران مناظر کو روشن کرتی ہیں، جبکہ یہ پک اپ گاڑی اس مہم کا اہم حصہ بن کر اُن مقامات تک رسائی ممکن بناتی ہے جہاں عام راستے ختم ہو جاتے ہیں۔
اس قسط کی سب سے جذباتی کہانیوں میں بہاولپور سے تعلق رکھنے والی نوجوان خاتون بائیکر ماہا حسین کی داستان بھی شامل ہے، جن کی زندگی معاشرتی توقعات اور سخت حالات کے خلاف جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے۔ والد کی حوصلہ افزائی نے ماہا کو اپنا شوق آگے بڑھانے کا حوصلہ دیا۔ ایک نہایت جذباتی لمحے میں وہ ماءی اسٹاپکی کو انکے والد کی ایک دیرینہ خواہش پوری کرنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔ یہ لمحہ اس لیے بھی خاص بن جاتا ہے کیونکہ بلال کے مطابق یہ پہلی بار تھا کہ اُن کے والد نے اپنے بیٹے سے کوئی خواہش ظاہر کی۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ بہاولپور کے اُس معروف تعلیمی ادارے کو تلاش کیا جائے جہاں وہ زیر تعلیم اور گولڈ میڈلسٹ رہے۔ کیا بلال اپنے والد کی یہ خواہش پوری کر پاتے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے قسط دیکھنا ہوگی۔
ڈیزرٹ اٹلس کو منفرد بنانے والی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ چولستان کی روح کو وہاں کے لوگوں، موسیقی اور ان کہی کہانیوں کے ذریعے محسوس کرواتا ہے۔ صحرا چاہے کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، اس کی موسیقی ہر سُر میں اپنائیت اور گرم جوشی ہے۔ مقامی کمیونٹی کی اصل آوازوں پر مشتمل اور کوک اسٹوڈیو سے شہرت پانے والے زوہیب قاضی کی پروڈیوس کردہ اس قسط کی موسیقی محبت، جدائی، امید اور بقا کی کہانیوں کو سُروں میں سمیٹتی ہے، یوں یہ صرف ایک ساؤنڈ ٹریک ہی نہیں بلکہ اس سرزمین اور وہاں بسنے والے لوگوں کے جذبات کی ترجمان بن جاتی ہے۔
ایسے دور میں جب سفری کانٹینٹ اکثر چند لمحوں کی ویڈیوز اور توجہ حاصل کرنے والی سرخیوں تک محدود ہو چکا ہے، The Great Pakistan Adventure ناظرین کو ایک ایسا تجربہ فراہم کرتا ہے جو دیر تک ذہنوں میں باقی رہتا ہے۔ حیرت انگیز مناظر، انسانوں سے جڑی حقیقی کہانیاں اور نظرانداز رہ جانے والی علاقوں کے ذریعے یہ سیریز لوگوں کو پاکستان کی خوبصورتی، ثقافتی تنوع اور اصل روح کو نئے انداز سے دریافت کرنے کی دعوت دیتی ہے، اور اپنے ناظرین کے دلوں میں ملک اور اس کے لوگوں سے ایک نئی وابستگی پیدا کر جاتی ہے۔
The Biz Update