اسلام آباد، یکم جون 2026: کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل نے ریکٹ بینکائزر پاکستان لمیٹڈ کی جانب سے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے 9 فروری 2021 کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کا فیصلہ سناتے ہوئے اسٹریپسلز کی گمراہ کن مارکیٹنگ کے حوالے سے کمیشن کے مؤقف کو برقرار رکھا ہے۔
ٹریبیونل نے قرار دیا کہ ریکٹ بینکائزر نے صارفین کو مصنوعات کی نوعیت اور حیثیت کے بارے میں گمراہ کن معلومات فراہم کر کے کمپٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 10(2)(ب) کی خلاف ورزی کی۔ ٹریبونل نے کمپنی کو 3 کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنے اور کمیشن کی جانب سے دی گئی اصلاحی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا حکم دیا۔
یہ معاملہ میسرز اسکوائر ڈسٹری بیوشن اینڈ مارکیٹنگ سسٹم (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی شکایت پر سامنے آیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریکٹ بینکائزر اپنی تشہیری مہم کے ذریعے اسٹریپسلز کو گلے کی تکلیف کے لیے ایک دوا کے طور پر پیش کر رہی ہے، حالانکہ یہ مصنوعات بطور دوا ڈی رجسٹر ہو چکی تھی اور بعد ازاں اسے نان میڈی کیٹڈ (غیر دوائی) پروڈکٹ کے طور پر مارکیٹ کیا جا رہا تھا۔ اس وقت یہ مصنوعات فوڈ آئٹم کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔
اپنے فیصلے میں ٹریبونل نے نوٹ کیا کہ کمیشن کی کارروائی کے بعد کمپنی نے مصنوعات کی پیکجنگ اور معلوماتی انتباہات میں نمایاں تبدیلیاں کیں۔ ٹریبونل کے مطابق اب پیکجنگ اور بلسٹر پیک پرنان میڈیکیٹڈ کا انتباہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نمایاں طور پر درج کیا گیا ہے، جبکہ پہلے یہ معلومات کم نمایاں انداز میں فراہم کی جاتی تھیں۔
کمیشن کی ہدایات کے مطابق کمپنی کو یہ بھی لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ ملک بھر میں وسیع اشاعت رکھنے والے کم از کم تین انگریزی اور تین اردو اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے اس امر سے عوام کو آگاہ کرے کہ اسٹریپسلز کی حیثیت دوا سے تبدیل ہو کر فوڈ پروڈکٹ کی ہو چکی ہے۔ مکمل تعمیل تک یہ اشتہارات ہفتہ وار بنیادوں پر شائع کیے جائیں گے۔
کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان صارفین کو گمراہ کن مارکیٹنگ سے تحفظ فراہم کرنے اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ کاروباری ادارے اپنی مصنوعات اور خدمات کے بارے میں درست، واضح اور حقیقت پر مبنی معلومات فراہم کریں۔ یہ فیصلہ اشتہارات میں شفافیت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور صارفین کے باخبر انتخاب کے حق کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
The Biz Update