اسلام آباد (یکم جون): سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کارپوریٹ ریگولیٹری نظام کو مزید مضبوط اور شفاف بنانے کے لیے سرٹیفکیٹ آف اسٹیٹوٹری کمپلائنس (CSC) کے اجرا کا نیا فریم ورک متعارف کرا دیا ہے۔
ایس ای سی پی کی جانب سے جاری کردہ ایس آر او 875(I)/2026 کے مطابق یہ سرٹیفکیٹ رجسٹرار آف کمپنیز کی جانب سے جاری کیا جائے گا، جو کمپنی کی قانونی حیثیت اور تعمیل کی تصدیق کا باضابطہ دستاویز ہوگا۔
نئے فریم ورک کے تحت سرٹیفکیٹ آف اسٹیٹوٹری کمپلائنس اس بات کی تصدیق کرے گا کہ کوئی بھی کمپنی کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ہے، فعال حیثیت میں موجود ہے اور اس نے تمام ضروری قانونی فائلنگز اور ریگولیٹری تقاضے مقررہ تاریخ تک پورے کر لیے ہیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق یہ اقدام ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں، سرکاری اداروں، کاروباری شراکت داروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے لیے کمپنیوں کی قانونی اور ریگولیٹری حیثیت کی قابل اعتماد تصدیق فراہم کرے گا، جس سے کاروباری شفافیت اور اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
ریگولیٹر نے واضح کیا ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ ان کمپنیوں کو جاری نہیں کیا جائے گا جو غیر فعال ہوں، جن کے خلاف اسٹرائک آف یا لیکویڈیشن کا عمل جاری ہو، یا جو کسی تفتیش، انکوائری یا تنازع کا شکار ہوں۔ اسی طرح ایسی کمپنیوں کو بھی CSC جاری نہیں ہوگا جن کی فائلنگز نامکمل ہوں، منظوریاں زیر التوا ہوں یا ایس ای سی پی ریکارڈز میں کوئی تضاد یا غلطی موجود ہو۔
ایس ای سی پی کے مطابق یہ اقدام اس کے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد کارپوریٹ گورننس کو بہتر بنانا، ریکارڈ کی درستگی کو یقینی بنانا، شفافیت کو فروغ دینا اور پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہے۔
فریم ورک کے تحت سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے درخواستیں رجسٹرار آف کمپنیز کو جمع کرائی جائیں گی۔
The Biz Update