اسلام آباد: آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل ملک بھر کی کاروباری برادری نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرتے ہوئے ٹیکسوں میں ریلیف، ریفنڈز کی فوری ادائیگی اور معاشی بحالی کے لیے مزید اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کو ہونے والی اعلیٰ سطح کی پری بجٹ مشاورتی نشست میں مختلف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں نے صنعتی پیداوار، برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل محنت اور حکومتی اقدامات کے باعث معیشت کو استحکام ملا ہے اور اب حکومت تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ بجٹ میں صنعتوں کی معاونت اور پیداوار بڑھانے کے لیے مزید اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔
وزیراعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت کی کہ تمام زیر التوا ٹیکس ریفنڈز کے کیسز 15 جون تک نمٹائے جائیں۔ یہ اعلان برآمد کنندگان کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے ریفنڈز میں تاخیر کی شکایت کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی حکمت عملی میں برآمدات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔
وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ شرح سود میں حالیہ اضافے کے باوجود ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی شرح 4.5 فیصد پر جون 2027 تک برقرار رکھی جائے گی، جسے برآمدی شعبے کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پی آر اے ایل) کے ہیڈکوارٹرز کراچی منتقل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی تاکہ ٹیکس انتظامیہ کو ملک کے سب سے بڑے تجارتی مرکز کے قریب لایا جا سکے۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں اور کاروباری حلقوں کے مطالبے پر گجرات میں پاسپورٹ آفس قائم کرنے کی بھی ہدایت دی۔
شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کی سہولت اور اصلاحات حکومت کی معاشی پالیسی کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے شعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔
کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خلیجی خطے میں کشیدگی کے دوران استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے حکومتی اقدامات میں تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
اجلاس میں شرکاء نے وزیراعظم کے "اپنا گھر پروگرام”، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ میں اصلاحات، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری، ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور ای انوائسنگ سسٹم کے نفاذ کا خیرمقدم کیا۔
تاہم، اجلاس میں شریک بعض کاروباری شخصیات کے مطابق صنعت و تجارت کے شعبے کا واضح پیغام یہ تھا کہ صرف اعلانات اور پالیسیوں سے کام نہیں چلے گا بلکہ اب کاروباری برادری کو تیز رفتار عملدرآمد، پالیسیوں میں تسلسل اور عملی نتائج درکار ہیں۔
اجلاس میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے چیمبرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد، ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔
The Biz Update