جمعرات , جون 4 2026
تازہ ترین
گلف ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سعودی ریال اور اماراتی درہم شامل
گلف ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سعودی ریال اور اماراتی درہم شامل

گلف ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سعودی ریال اور اماراتی درہم شامل

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (این پی سیز) اسکیم کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے سعودی عربی ریال اور متحدہ عرب امارات کے درہم میں سرمایہ کاری کی سہولت متعارف کرا دی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق وزارت خزانہ کے ایکسٹرنل فنانس ونگ نے 15 مئی 2026 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے روایتی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کو سعودی ریال اور اماراتی درہم میں جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اس سے قبل بیرون ملک مقیم پاکستانی امریکی ڈالر، یورو، پاکستانی روپے اور برطانوی پاؤنڈ اسٹرلنگ میں نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کر سکتے تھے۔ نئی سہولت کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی اپنی مقامی کرنسیوں میں بھی سرمایہ کاری کر سکیں گے، جس سے سرمایہ کاری کا عمل مزید آسان اور سہل ہو جائے گا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری، منافع کی ادائیگی، قبل از وقت کیش کرانے اور میعاد مکمل ہونے پر ادائیگی کے موجودہ قواعد سعودی ریال اور اماراتی درہم میں جاری ہونے والے سرٹیفکیٹس پر بھی لاگو ہوں گے۔ تاہم، ایجنٹ بینک سرٹیفکیٹس کی اصل رقم اسٹیٹ بینک کے نوسترو اکاؤنٹس میں منتقل کریں گے۔

حکومت نے یکم جون 2026 سے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں بھی ردوبدل کا اعلان کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق کم از کم ایک ہزار امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری اور اس کے بعد 500 ڈالر کے اضافی یونٹس پر منافع کی شرح میں بعض مدتوں کے لیے 25 بیسس پوائنٹس تک تبدیلی کی گئی ہے۔

تین ماہ مدت والے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 7 فیصد سے کم کرکے 6.75 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ چھ ماہ اور تین سالہ سرٹیفکیٹس کی شرح بالترتیب 7 فیصد اور 7.50 فیصد برقرار رکھی گئی ہے۔

اسی طرح 12 ماہ کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 7 فیصد سے بڑھا کر 7.25 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ پانچ سالہ سرٹیفکیٹس پر منافع 25 بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد 7.75 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق سعودی ریال اور اماراتی درہم میں سرمایہ کاری کی سہولت متعارف ہونے سے خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوگا اور حکومت کو بیرونی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

Please follow and like us:
Pin Share

About admin

Check Also

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 70 سے 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے موخر کر دیے

کراچی، 2 جون 2026: اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (اوآئی سی سی آئی) …

بجٹ 2026-27 میں کرپٹو کرنسی پر ٹیکس لگانے کی تیاری، حکومت جامع قانونی فریم ورک متعارف کرانے پر غوراں

بجٹ 2027: حکومت کا کرپٹو کرنسی لین دین کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا امکان

اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں فنانس بل کے ذریعے …

پاکستان اور یورپی یونین کا جی ایس پی پلس تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

پاکستان اور یورپی یونین کا جی ایس پی پلس تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین (ای یو) نے مضبوط اقتصادی تعلقات کی اہمیت پر …

کاروباری برادری کا وزیراعظم سے ٹیکس ریلیف اور اصلاحات کا مطالبہ

کاروباری برادری کا وزیراعظم سے ٹیکس ریلیف اور اصلاحات کا مطالبہ

اسلام آباد: آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل ملک بھر کی کاروباری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

RSS
LinkedIn
Share