کراچی، 4 جون 2026 : بزنس مین پینل پروگریسیو (بی ایم پی پی) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں برآمدات کے فروغ، صنعتی ترقی اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کو اولین ترجیح دی جائے، جبکہ کاروباری لاگت میں کمی کے لیے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو کم کرکے 15 فیصد کیا جائے اور سپر ٹیکس کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ آنے والے بجٹ میں بنیادی توجہ برآمدات پر مبنی ترقی، ٹیکس اصلاحات اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کو ریلیف دینے پر ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ناگزیر ہے، جبکہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں پر مزید بوجھ ڈالنا درست نہیں۔ اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان اللہ پراچہ اور آصف سخی، سابق نائب صدر شبیر منشا چھرا اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ اگر حکومت سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی تو کم از کم مینوفیکچرنگ سیکٹر کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تاکہ صنعتوں کو ریلیف ملے اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک شعبے پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا درست پالیسی نہیں اور تمام شعبوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فکسڈ ٹیکس رجیم کو بحال کیا جائے اور نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ اس مقصد کے لیے ایک سادہ اور سنگل فارم ٹیکس ریٹرن متعارف کرایا جائے تاکہ کاروباری افراد اور چھوٹے تاجروں کے لیے ٹیکس نظام قابل فہم اور قابل عمل بن سکے۔
ثاقب فیاض مگوں نے زرعی شعبے کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کاٹن سیڈ پر عائد ٹیکس ختم کیا جائے جبکہ کھل اور بنولا سیکٹر کو خصوصی ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتی خام مال پر ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بن سکیں، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کی بجٹ تجاویز میں سب سے زیادہ اہمیت برآمدی شعبے کو دی گئی ہے کیونکہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایکسپورٹرز سے متعلق پالیسیوں اور فائنل ٹیکس رجیم کے معاملات میں کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کو اعتماد میں لیا جائے۔
ثاقب فیاض مگوں نے آئندہ مالی سال کے لیے مجوزہ 15 ہزار 200 ارب روپے کے ٹیکس ہدف پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہدف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ مالی سال میں بھی محصولات کا ہدف غیر حقیقی انداز میں بڑھایا گیا تھا جسے بعد ازاں کم کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ محض بڑے ٹیکس اہداف مقرر کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ محصولات کے اہداف معیشت کی حقیقی استعداد اور کاروباری سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیے جانے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ٹیکس وصولیوں کے اہداف ایکسپورٹرز اور متعلقہ شعبوں سے مشاورت کے بعد مقرر کرنے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر شعبے کی ترقی کا ہدف بھی متعلقہ صنعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے۔ بغیر مشاورت اہداف مقرر کرنے کی پالیسی نہ صرف غیر مؤثر ہے بلکہ اس سے کاروباری برادری میں بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔
ثاقب فیاض مگوں نے کیمیکل انڈسٹری کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیکس ریلیف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ صنعتی ترقی اور برآمدات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے فاٹا اور پاٹا میں دی جانے والی ٹیکس مراعات پر بھی نظرثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان مراعات کا تعین مقامی طلب و رسد اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے تاکہ ان کا غلط استعمال روکا جا سکے اور مارکیٹ میں مسابقتی توازن برقرار رہے۔
انہوں نے مجوزہ 15 ہزار 200 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اہداف معیشت کی زمینی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے اور پہلے بھی ان میں کمی کرنا پڑی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس اور ترقی کے اہداف متعلقہ شعبوں سے مشاورت کے بعد مقرر کیے جائیں کیونکہ یکطرفہ فیصلے غیر یقینی صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 1 لاکھ روپے ماہانہ آمدن تک افراد کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے جبکہ مہنگائی کے پیش نظر کم از کم اجرت میں 15 فیصد اضافہ کیا جائے۔
انہوں نے کیمیکل انڈسٹری کے لیے خصوصی ٹیکس ریلیف اور فاٹا و پاٹا کی مراعات کا ازسرنو جائزہ لینے کی بھی تجویز دی۔
شبیر منشا چھرا نے کہا کہ بجٹ کو ریونیو اہداف کے بجائے معاشی ترقی پر مرکوز ہونا چاہیے جبکہ آصف سخی نے ٹریڈ باڈیز کو پالیسی کے نفاذ میں شراکت دار بنانے پر زور دیا۔
امان اللہ پراچہ نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دیے بغیر معیشت کی ترقی ممکن نہیں، جبکہ ٹیکس نظام کو آسان اور خوف سے پاک بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
The Biz Update