وزارتِ خزانہ نے جمعرات کو ان خبروں کی سختی سے تردید کردی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بجٹ سازی کا عمل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے حوالے کردیا ہے۔ وزارت نے ان خبروں کو “حقائق کے منافی” اور “گمراہ کن” قرار دیا۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ 14 مئی 2026 کو شائع ہونے والی خبر، جس کا عنوان “وزیر اعظم نے بجٹ ڈار کو دے دیا ” تھا، نے ایک گمراہ کن اور قیاس آرائی پر مبنی تاثر پیدا کیا۔
بیان کے مطابق خبر میں وزیراعظم کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ کمیٹی کی تشکیل کو اس طرح پیش کیا گیا جیسے بجٹ سازی کا عمل وزارتِ خزانہ یا فنانس ڈویژن سے لے کر کسی اور کے حوالے کردیا گیا ہو، یا وزیر خزانہ کو اس عمل سے الگ کردیا گیا ہو۔
وزارت نے واضح کیا کہ یہ تاثر مکمل طور پر غلط، گمراہ کن اور کمیٹی کے اصل مینڈیٹ اور طریقہ کار کے برعکس ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق تشکیل دی گئی کمیٹی کو آئندہ بجٹ کے تناظر میں ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سے تیار کردہ بعض ٹیکس تجاویز کا جائزہ لینے اور ان کا تجزیہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس نوعیت کے مشاورتی اور بین الوزارتی جائزہ طریقہ کار نہ تو غیر معمولی ہیں اور نہ ہی کوئی نئی بات۔ وزیراعظم، بطور سربراہِ حکومت، آئینی اور انتظامی طور پر مکمل اختیار رکھتے ہیں کہ وہ کاروباری سرگرمیوں، مہنگائی، سرمایہ کاری کے ماحول اور وسیع تر معیشت پر اثر انداز ہونے والی ٹیکس تجاویز کو حتمی شکل دینے سے قبل کابینہ کے متعلقہ ارکان سے مشاورت کریں۔
وزارت نے دوبارہ واضح کیا کہ کسی بھی مرحلے پر بجٹ سازی کا عمل وزارتِ خزانہ یا فنانس ڈویژن سے منتقل نہیں کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ وفاقی بجٹ کی تیاری بدستور وزارتِ خزانہ کی جانب سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں جاری ہے۔
وزارت کے مطابق محمد اورنگزیب وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے بھی رکن ہیں اور وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سمیت دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ بجٹ اور میکرو اکنامک معاملات پر پاکستان کی نمائندگی اور مذاکرات کی قیادت بدستور کر رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ نفاذی اقدامات سے متعلق کمیٹی صرف محصولات کے نظام اور نفاذی تجاویز کو مزید مؤثر بنانے اور متعلقہ فریقین سے مشاورت کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ نے کہا کہ اس قسم کے رابطہ اور مشاورتی نظام حکومتی اور مالیاتی نظم و نسق کا معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔
بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ وفاقی بجٹ ایک اجتماعی، آئینی اور کابینہ پر مبنی عمل ہے، جس میں وزارتِ خزانہ اپنا مرکزی اور آئینی کردار بدستور ادا کر رہی ہے۔
The Biz Update