کراچی: پاکستان میں ویتنام کے سفیر فام انہ توان نے کہا ہے کہ عالمی تجارت اور جغرافیائی سیاسی صورتحال میں تبدیلیوں نے پاکستان کے لیے نئی تجارتی مواقع پیدا کیے ہیں، خصوصاً کراچی کے لیے، جو اپنی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث ایک بڑے علاقائی تجارتی اور لاجسٹکس حب کے طور پر تیزی سے ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خاص طور پر کراچی پورٹ کی بدولت اس کی اہمیت میں بہت اضافہ ہو گیا ہےْ
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈانڈسڑری کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری دنیا متبادل تجارتی راستوں اور ٹرانس شپمنٹ ذرائع کی تلاش میں ہے۔ اس صورتحال میں کراچی پورٹ خطے کی منڈیوں، خصوصاً مشرق وسطیٰ سے روابط قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اجلاس میں ویتنام ٹریڈ مشن کراچی کی سربراہ نگوین تھی دیپ ہا، کراچی چیمبر کے صدر محمد ریحان حنیف ، سینئر نائب صدر محمد رضا، چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز اینڈ ایمبیسیز لائژن سب کمیٹی احسن ارشاد شیخ اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔
سفیر فام انہ توان نے کہا کہ یہ ان کا کراچی کا دوسرا دورہ اور کراچی چیمبر کے ساتھ دوسری ملاقات ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ویتنامی سفارت خانہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے ساتھ روابط کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں دیرینہ دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔
انہوں نے ویتنام کی معاشی ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ویتنام ایشیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے۔ دوطرفہ تجارت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 850 ملین ڈالر ہے، جو مستحکم ہونے کے باوجود اپنی حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر بات چیت جاری ہے، جس کے تحت 100 سے زائد مصنوعات پر ٹیکس زیرو کرنے کی تجویز ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
The Biz Update