کراچی، 6 اگست 2026: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد ملکی تاریخ میں پہلی بار 6 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جو پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ پر بڑھتے ہوئے عوامی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 کے اختتام پر سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد 6 لاکھ 7 ہزار 25 تک پہنچ گئی۔ صرف جولائی کے دوران 23 ہزار 973 نئے سرمایہ کاروں نے اپنے اکاؤنٹس کھلوائے، جو پی ایس ایکس کی تاریخ میں ماہانہ بنیاد پر دوسرا بڑا اضافہ ہے۔
جون 2022 سے اب تک اسٹاک ایکسچینج میں 3 لاکھ 32 ہزار سے زائد نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں، جس کے بعد سرمایہ کاروں کی تعداد 2 لاکھ 75 ہزار سے بڑھ کر 6 لاکھ 7 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔ یہ چار برس سے کچھ زیادہ عرصے میں 121 فیصد اضافہ ہے۔
سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافے کی رفتار بھی نمایاں طور پر تیز ہوئی ہے۔ مالی سال 2023 اور 2024 میں اوسطاً ہر ماہ تقریباً 2 ہزار 300 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، جبکہ یہ تعداد مالی سال 2025 میں بڑھ کر 5 ہزار 300 ہو گئی۔ مالی سال 2026 میں اوسط ماہانہ اضافہ 15 ہزار 860 تک پہنچ گیا، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق حالیہ اضافہ زیادہ تر جنریشن زی (Gen Z) اور پہلی بار سرمایہ کاری کرنے والے ریٹیل سرمایہ کاروں کی بدولت سامنے آیا ہے۔ ڈیجیٹل ٹریڈنگ پلیٹ فارمز تک آسان رسائی، مالیاتی آگاہی میں اضافہ اور معیشت کے بارے میں بہتر ہوتے اعتماد نے زیادہ افراد کو شیئرز میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کیا ہے۔
سرمایہ کاروں کی تعداد میں یہ مسلسل اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور مضبوط ہو رہی ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو نہ صرف مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بہتر ہوگی بلکہ کمپنیوں کو مقامی سرمایہ بھی زیادہ دستیاب ہوگا، جبکہ عام شہریوں کے لیے طویل المدتی دولت بنانے کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
The Biz Update