کراچی، 6 اگست 2026: پاکستان کا تجارتی خسارہ جولائی 2026 میں سالانہ بنیاد پر 25 فیصد سے زائد بڑھ کر 3.95 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جس پر یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے صدر اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیر طفیل نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ درآمدات پر بڑھتا ہوا انحصار ملکی معیشت پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔
زبیر طفیل نے کہا کہ اگرچہ جون 2026 کے مقابلے میں تجارتی خسارے میں تقریباً 15 فیصد کمی آئی، تاہم درآمدات بدستور بلند سطح پر رہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان توانائی، صنعتی خام مال اور مشینری کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جولائی کے دوران درآمدی بل تقریباً 18 فیصد اضافے کے بعد 6.89 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ برآمدات میں بھی تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی سرگرمیوں میں تیزی کے باعث خام مال، مشینری اور دیگر ضروری اشیا کی طلب بڑھی، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے درآمدی بل مزید بڑھا دیا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں جولائی کے دوران پیٹرولیم مصنوعات اور ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ہوا۔ چونکہ پاکستان کی مجموعی درآمدات میں توانائی کا حصہ تقریباً 20 سے 25 فیصد ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافے نے درآمدی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس کے علاوہ صنعتی اور زرعی شعبوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشینری اور گاڑیوں کی زیادہ درآمدات نے بھی تجارتی خسارے کو مزید وسیع کیا۔
زبیر طفیل نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق غذائی مصنوعات، خصوصاً چاول، نے برآمدی آمدن بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ ٹیکسٹائل بدستور پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ ہے، جو مجموعی برآمدات کا 55 سے 60 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماہ جاری ہونے والی تفصیلی تجارتی رپورٹ سے یہ واضح ہوگا کہ کن شعبوں نے برآمدات میں سب سے زیادہ اضافہ کیا۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ صنعتوں کو سستی بجلی اور گیس فراہم کی جائے، برآمد کنندگان کے ریفنڈز اور ٹیکس ریبیٹس بروقت ادا کیے جائیں، ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دیا جائے اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے تجارتی سفارت کاری کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
زبیر طفیل نے زور دیا کہ صنعتی پیداواری لاگت میں کمی، متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی، درآمدی متبادل صنعتوں کا فروغ اور برآمد کنندگان کے لیے مستقل اور پائیدار پالیسیوں کا تسلسل ہی تجارتی خسارہ کم کرنے اور پاکستان کو مضبوط اور پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
The Biz Update