کراچی، 11 اگست 2026: پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے مطالبات پورے نہ ہونے پر حکومت کو 72 گھنٹے کا حتمی الٹی میٹم دے دیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر کے پٹرول پمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے جائیں گے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی پی ڈی اے کے چیئرمین ملک خدا بخش نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم ڈیلرز کے مسائل حل کرنے کے لیے کیے گئے وعدے تاحال پورے نہیں ہوئے۔
پریس کانفرنس میں وائس چیئرمین طارق حسن، انور کمال، ملک شیر خان، سندھ ریجن کے صدر حاجی امیر خان، کراچی کے صدر سعید خان اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔
ملک خدا بخش نے کہا کہ ملک بھر سے پٹرولیم ڈیلرز کے اجلاس کے بعد متفقہ طور پر پٹرول پر 8 فیصد مارجن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلرز کا صبر جواب دے چکا ہے اور ایسوسی ایشن کے 14 ہزار سے زائد ارکان فوری کارروائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے 72 گھنٹوں کے اندر مطالبات تسلیم نہ کیے تو ہفتہ 15 اگست کو صبح 6 بجے سے ملک بھر کے پٹرول پمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مطالبات پورے ہونے تک پٹرول پمپس دوبارہ نہیں کھولے جائیں گے۔
پی پی ڈی اے چیئرمین نے پٹرول کی قیمتوں میں 24 گھنٹے کے اندر تبدیلی کے نئے طریقہ کار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام عملی طور پر ناقابلِ عمل ہے اور اس سے پٹرول پمپ مالکان کو انتظامی مشکلات کے ساتھ مالی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
ملک خدا بخش نے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی خوردہ فروخت کی قیمت پر ڈیلرز کا کم از کم 8 فیصد کمیشن مقرر کیا جائے۔ ان کے مطابق موجودہ کمیشن بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی اور گیس کے اخراجات، ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر کاروباری اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی پی ڈی اے کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اس سے قبل کمپنی ایلوکیشن پالیسی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ایسوسی ایشن نے اسے امتیازی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے اور اسے شفاف اور منصفانہ بنایا جائے۔
ملک خدا بخش نے کہا کہ حکومت کو مسائل حل کرنے کے لیے آخری 72 گھنٹے دیے جا رہے ہیں۔ اگر جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر کے فیول اسٹیشنز بند کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
پی پی ڈی اے نے حکومت، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
تاہم، ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ پٹرولیم ڈیلرز کے حقوق کے تحفظ اور ملک بھر میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔
The Biz Update