اتوار , ستمبر 6 2026
تازہ ترین
پاکستان نجی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے نجی شراکت داری اور نجکاری کا عمل تیز کرے گا
پاکستان نجی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے نجی شراکت داری اور نجکاری کا عمل تیز کرے گا

پاکستان نجی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے نجی شراکت داری اور نجکاری کا عمل تیز کرے گا

اسلام آباد، 5 ستمبر ۲۰۲۶: پاکستان نے بنیادی ڈھانچے اور سرکاری کاروباری اداروں میں نجی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے سرکاری و نجی شراکت داری اور نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کے مطابق دونوں پروگرام اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری میں اضافے اور سرکاری شعبے پر مالی دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس عزم کا اظہار اسلام آباد میں ہونے والے قومی تزویراتی مکالمے برائے سرکاری و نجی شراکت داری و نجکاری کے دوران کیا گیا۔ تقریب میں پاکستان کی سرکاری و نجی شراکت داری کی نگرانی کا نظام بھی متعارف کرایا گیا۔

تقریب میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ینگ منگ یانگ، اعلیٰ وفاقی و صوبائی حکام، مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے جہاں نجی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آئندہ اقتصادی ترقی میں نجی شعبے کو مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔

محمد اورنگزیب کے مطابق سرکاری و نجی شراکت داری اور نجکاری کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے کے ساتھ اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے اور معیشت میں نجی شعبے کے لیے مزید گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں کی مضبوط فہرست تیار کر رہی ہے تاکہ ان منصوبوں کو عملی سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی میں تبدیل کیا جا سکے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ پاکستان کی بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی ضروریات صرف سرکاری اخراجات سے پوری نہیں کی جا سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے اور معاشی اثاثوں کی مالی معاونت، تعمیر اور انتظام میں نجی شعبے کا کردار بڑھانا ضروری ہے۔

محمد علی کے مطابق سرکاری و نجی شراکت داری اور نجکاری ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ مختلف اور ایک دوسرے کو مکمل کرنے والے طریقے ہیں۔

سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے نجی شعبہ بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات میں سرمایہ اور مہارت فراہم کر سکتا ہے، جبکہ نجکاری کے ذریعے تجارتی نوعیت کے سرکاری اداروں میں نجی ملکیت یا انتظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عمل سے اداروں کی کارکردگی، سرمایہ کاری اور عوامی خدمات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

محمد علی نے اثاثوں سے مالی وسائل حاصل کرنے کو بھی نجی سرمایہ، جدید ٹیکنالوجی اور انتظامی مہارت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نجکاری پروگرام جاری رکھے گی، سرکاری و نجی شراکت داری کے منصوبوں میں اضافہ کرے گی اور منصوبوں کی تکمیل پر توجہ دے گی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ینگ منگ یانگ نے پاکستان میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ نجی سرمایہ اور مہارت کو متحرک کرنا ضروری ہے۔

ان کے مطابق بہتر انداز میں تیار کیے گئے سرکاری و نجی شراکت داری کے منصوبے محدود سرکاری وسائل پر دباؤ کم کر سکتے ہیں، کارکردگی بہتر بنا سکتے ہیں اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مضبوط کر سکتے ہیں۔

ینگ منگ یانگ نے پاکستان کی سرکاری و نجی شراکت داری کی نگرانی کے نظام کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ نظام سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مکمل ہونے والے منصوبوں اور مستقبل کے سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں بہتر معلومات فراہم کرے گا۔

اس نظام کے مطابق ۱۹۹۰ کی دہائی سے اب تک پاکستان میں ۱۵۴ سرکاری و نجی شراکت داری کے منصوبے مالی تکمیل کے مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔ ان منصوبوں میں تقریباً ۳۶ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔

اس وقت وفاقی سطح پر ۳۸ سرکاری و نجی شراکت داری کے منصوبے زیر تکمیل مراحل میں ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً ۶.۵ ارب ڈالر ہے۔

ان منصوبوں میں سڑکیں، ریلوے، ہوابازی، صحت اور صنعتی بنیادی ڈھانچہ سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔

دوسری جانب حکومت ۲۷ لین دین پر مشتمل نجکاری پروگرام پر بھی کام کر رہی ہے۔

اس پروگرام میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، بڑے ہوائی اڈے، بیمہ کمپنیاں اور خصوصی بینک شامل ہیں۔

حکومت نے حالیہ پیش رفت میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی انتظامی اختیار کے ساتھ نجکاری کا بھی ذکر کیا، جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کے انتظامی معاہدوں پر کام جاری ہے۔

نجکاری کمیشن کے سیکریٹری عثمان باجوہ نے کہا کہ حکومت سرکاری و نجی شراکت داری اور نجکاری دونوں پروگراموں پر پیش رفت جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی واضح فہرست، بہتر رابطہ کاری، شفافیت اور سرمایہ کاروں کے لیے قابلِ پیش گوئی نظام پر توجہ دی جائے گی۔

حکومت کے مطابق پاکستان کے پاس سرکاری و نجی شراکت داری کے لیے ایک قائم شدہ ادارہ جاتی نظام، ماضی کا مضبوط تجربہ اور سرمایہ کاری کے لیے منصوبوں کی بڑھتی ہوئی فہرست موجود ہے۔

اب حکومت کی توجہ ان منصوبوں کو عملی معاہدوں میں تبدیل کرنے، نجی سرمایہ کاری بڑھانے اور سرمایہ کاری پر مبنی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے پر ہوگی۔

Please follow and like us:
Pin Share

About admin

Check Also

بینک اسلامی نے پاکستان کی پہلی شریعہ کمپلائنٹ گولڈ بیسڈ فنانسنگ سہولت متعارف کرا دی

بینک اسلامی نے پاکستان کی پہلی شریعہ کمپلائنٹ گولڈ بیسڈ فنانسنگ سہولت متعارف کرا دی

کراچی، 3 ستمبر 2026: بینک اسلامی نے پاکستان میں پہلی شریعہ کمپلائنٹ گولڈ بیسڈ فنانسنگ …

پاکستان ای وی اور سولر ایکسپو میں الیکٹرک گاڑیوں اور چارجرز میں عوام کی بھرپور دلچسپی

پاکستان ای وی اور سولر ایکسپو میں الیکٹرک گاڑیوں اور چارجرز میں عوام کی بھرپور دلچسپی

کراچی، 3 ستمبر 2026: کراچی ایکسپو سینٹر میں پاکستان ای وی اور سولر ایکسپو کے …

مسابقتی بجلی منڈی کے مکمل نفاذ سے پہلے ڈسکوز میں اصلاحات ضروری، ماہرین

مسابقتی بجلی منڈی کے مکمل نفاذ سے پہلے ڈسکوز میں اصلاحات ضروری، ماہرین

اسلام آباد، 3 ستمبر 2026: توانائی کے ماہرین، ریگولیٹرز، محققین اور صنعتی شعبے کے نمائندوں …

ڈسکوز میں اصلاحات کے بغیر مسابقتی بجلی منڈی کا قیام خطرناک ہوگا، ماہرین

ڈسکوز میں اصلاحات کے بغیر مسابقتی بجلی منڈی کا قیام خطرناک ہوگا، ماہرین

اسلام آباد: توانائی کے ماہرین، حکومتی اداروں، صنعت اور تحقیقی شعبے سے وابستہ نمائندوں نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

RSS
LinkedIn
Share