جمعہ , ستمبر 4 2026
تازہ ترین
مسابقتی بجلی منڈی کے مکمل نفاذ سے پہلے ڈسکوز میں اصلاحات ضروری، ماہرین

مسابقتی بجلی منڈی کے مکمل نفاذ سے پہلے ڈسکوز میں اصلاحات ضروری، ماہرین

اسلام آباد، 3 ستمبر 2026: توانائی کے ماہرین، ریگولیٹرز، محققین اور صنعتی شعبے کے نمائندوں نے پاکستان میں مسابقتی بجلی منڈی کے دائرہ کار کو وسیع کرنے سے پہلے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے بنیادی نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

یہ سفارشات پائیدار ترقی پالیسی ادارہ (ایس ڈی پی آئی) کے نیٹ ورک فار کلین انرجی ٹرانزیشن (این سی ای ٹی) کے تحت منعقدہ اجلاس میں سامنے آئیں۔ اجلاس میں ’’مسابقتی نیلامیوں کے ڈسکوز پر اثرات اور بجلی کی منڈی میں آزادی کے نتائج‘‘ کے موضوع پر انرجی ریگولیٹری سینڈ باکس کا آغاز بھی کیا گیا۔

سابق منیجنگ ڈائریکٹر پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) شاہ جہاں مرزا نے کہا کہ مسابقتی دوطرفہ معاہدوں کی بجلی منڈی (سی ٹی بی سی ایم) پاکستان کے توانائی کے شعبے کا ایک اہم ترین موضوع ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بجلی کی منڈی محدود مسابقت کے ساتھ کام کر رہی ہے اور نیلامی کے لیے مختص بجلی کی مقدار بھی نسبتاً کم ہے، اس لیے ابتدائی مرحلے میں پورے نظام پر اس کے اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔

شاہ جہاں مرزا نے ڈسکوز کی نجکاری اور سی ٹی بی سی ایم کے تحت مسابقتی بجلی منڈی کا قیام توانائی کے شعبے میں منتقلی کے دو بنیادی ستون قرار دیے۔ انہوں نے بجلی کی منڈی میں اصلاحات کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایس ڈی پی آئی کے سینڈ باکس اقدام کو بھی اہم قرار دیا۔

عالمی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجلی کی منڈی میں مسابقت متعارف کرانے والے ممالک میں عمومی طور پر بجلی کی قیمتوں، معیار اور دستیابی میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق بنیادی مقصد بجلی کے مجموعی نظام کی لاگت کم کرنا ہونا چاہیے، جس کے لیے وہیلنگ چارجز اور متبادل بجلی فراہم کنندگان کی طرف منتقل ہونے والے صارفین سے مناسب لاگت وصولی کا نظام مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی 200 میگاواٹ بجلی کی نیلامی نظام میں بجلی پیدا کرنے والے نسبتاً مہنگے حصے سے کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ پہلے سے نصب سولر نظام ختم نہیں کیے جانے چاہئیں بلکہ انہیں بجلی کے نظام میں زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔

ایس ڈی پی آئی کے انرجی اکانومسٹ اور ریسرچ فیلو ڈاکٹر خالد ولید نے کہا کہ سولر بجلی اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ توانائی کے شعبے میں منتقلی کے اہم عوامل بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری، بجلی کی منڈی میں آزادی اور وہیلنگ کے نظام میں اصلاحات مسابقت متعارف کرانے کے لیے ضروری ہیں۔

ڈاکٹر خالد ولید نے تجویز دی کہ سولر اور بیٹری اسٹوریج کے اداروں کو ورچوئل پاور پلانٹس کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ دن کے وقت پیدا ہونے والی بجلی صنعتی صارفین کو سی ٹی بی سی ایم کے ذریعے فروخت کر سکیں۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ صرف ڈسکوز کی نجکاری سے صارفین، صنعت اور عام عوام کو مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق بجلی کی منڈی میں اصلاحات کے عمل میں جدت کو مرکزی حیثیت دینا ضروری ہے۔

خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ایوب نے کہا کہ سی ٹی بی سی ایم کے لیے درکار بنیادی آپریشنل نظام ابھی تک ڈسکوز کی سطح پر مکمل طور پر دستیاب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکمل فعال اسکادا نظام اور بجلی کے نظام سے متعلق حقیقی وقت کے آن لائن ڈیٹا کی سہولت ابھی موجود نہیں، حالانکہ اصلاحات پر کئی سال سے کام جاری ہے۔

محمد ایوب کے مطابق تقریباً سات سے آٹھ سال سے ان اصلاحات پر کام ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود کارکردگی میں نمایاں بہتری نہیں آئی۔ انہوں نے تجویز دی کہ وسائل کو ڈسکوز کے بنیادی مسائل حل کرنے پر خرچ کیا جائے۔

ایس ڈی پی آئی کے محقق محمد عمر نے انرجی ریگولیٹری سینڈ باکس کے نتائج پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) پہلے مرحلے میں پاکستان کی پہلی 200 میگاواٹ بجلی کی وہیلنگ نیلامی شروع کر رہا ہے۔

منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی پانچ سال تک وہیلنگ کے لیے مختص کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

سینڈ باکس میں ڈسکوز پر ممکنہ مالی اثرات، مختلف مارکیٹ منظرناموں، ٹیرف پر اثرات اور مسابقتی بجلی منڈی کی طرف منتقلی کے لیے پالیسی سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔

محمد عمر نے ڈسکوز کے لیے ورچوئل پاور پلانٹ پر مبنی آمدنی کا ماڈل بنانے، مخصوص صارفین کو ہدف بنانے اور بجلی کی نیلامیوں میں ڈسکوز کی شرکت مرحلہ وار بڑھانے کی تجویز دی۔

انہوں نے سی ٹی بی سی ایم کے دوسرے منظرنامے کے تحت اضافی بجلی کے لیے ایک اضافی مارکیٹ نظام بنانے کی تجویز بھی دی، جس سے تقریباً 93 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

یونیورسٹی آف باتھ کے انرجی اینڈ کلائمیٹ پریکٹیشنر محمد فیصل شریف نے کہا کہ سی ٹی بی سی ایم متعلقہ اداروں کے ذریعے مسابقتی بجلی منڈی کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرتا ہے اور ڈسکوز کی نجکاری کے ذریعے پاکستان بتدریج مسابقتی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحث کو صرف ڈسکوز کی آمدن پر پڑنے والے اثرات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اس منتقلی سے پسماندہ طبقات اور دیہی آبادی کو کس طرح فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔

پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے چیئرمین وقاص ہارون موسیٰ نے ڈسکوز کے ممکنہ مالی نقصان کا تخمینہ لگانے کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی بنیادی شرح کی بنیاد پر کیے گئے حسابات میں دیگر قابلِ اطلاق چارجز کو مکمل طور پر شامل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے تجویز دی کہ خاص طور پر لوڈشیڈنگ والے علاقوں میں اضافی بجلی کو کمرشل صارفین کو فراہم کیا جا سکتا ہے، جس سے ڈسکوز کو ہونے والے خالص مالی نقصان کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈویلپمنٹ کی ریسرچ ایسوسی ایٹ آمنہ شہاب نے صنعتی صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل صنعتی پیداوار کے لیے بلاتعطل بجلی ضروری ہے۔ ان کے مطابق بہت سے صنعتی صارفین پہلے ہی کیپٹو سولر، ہوا سے بجلی اور تھرمل بجلی سمیت مختلف ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر صارفین کی تیاری اور قابلِ اعتماد بجلی کی طلب کا درست اندازہ نہ لگایا گیا تو سی ٹی بی سی ایم کا ابتدائی 200 میگاواٹ کا مرحلہ اور مستقبل میں اس کی توسیع کس حد تک کامیاب ہو سکے گی۔

پی پی آئی بی کے جوائنٹ ڈائریکٹر پاور اینڈ انفراسٹرکچر پروکیورمنٹ محمد عمر خان نے سینڈ باکس میں بجلی کی طلب سے متعلق مفروضوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے بجلی کی منڈی کو آزاد کرنے کی طرف پیش رفت کی، وہاں حکومتوں نے عام طور پر وفاقی فنڈنگ یا سبسڈی کے ذریعے منتقلی کے عمل میں معاونت کی۔

الٹرنیٹ ڈویلپمنٹ سروسز کے انرجی ٹرانزیشن آفیسر مشہود عرفی نے سینڈ باکس مطالعے میں ہفتہ وار تعطیلات کے دوران چارجنگ سے متعلق مفروضے پر وضاحت طلب کی اور سوال کیا کہ پیش کیے گئے دونوں منظرناموں میں سے خالصتاً معاشی اعتبار سے کون سا زیادہ قابلِ عمل ہے۔

اجلاس کے اختتام پر شرکا نے بجلی کی منڈی میں آزادی، ڈسکوز میں اصلاحات، وہیلنگ، قابلِ تجدید توانائی اور پاکستان کے توانائی کے شعبے کے مستقبل سے متعلق سوالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

Please follow and like us:
Pin Share

About admin

Check Also

ڈسکوز میں اصلاحات کے بغیر مسابقتی بجلی منڈی کا قیام خطرناک ہوگا، ماہرین

ڈسکوز میں اصلاحات کے بغیر مسابقتی بجلی منڈی کا قیام خطرناک ہوگا، ماہرین

اسلام آباد: توانائی کے ماہرین، حکومتی اداروں، صنعت اور تحقیقی شعبے سے وابستہ نمائندوں نے …

ایس ای سی پی کی 28 ہزار 761 کمپنیوں کو حقیقی مالکان کی تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر نوٹس

ایس ای سی پی کی 28 ہزار 761 کمپنیوں کو حقیقی مالکان کی تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر نوٹس

اسلام آباد، 3 ستمبر 2026: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) …

ٹیٹرا پیک کا پاکستان کے غذائی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اصلاحات کا مطالبہ

ٹیٹرا پیک کا پاکستان کے غذائی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اصلاحات کا مطالبہ

کراچی، ۳ ستمبر ۲۰۲۶: ٹیٹرا پیک نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے غذائی بحران اور غذائی …

پاکستان میں مقامی موبائل فون اسمبلی میں جولائی کے دوران 9 فیصد سالانہ اضافہ

پاکستان میں مقامی موبائل فون اسمبلی میں جولائی کے دوران 9 فیصد سالانہ اضافہ

کراچی، 24 اگست 2026: پاکستان میں مقامی طور پر موبائل فون کی تیاری اور اسمبلی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

RSS
LinkedIn
Share