کراچی، ۳ ستمبر ۲۰۲۶: پاکستان میں صارفین کے اعتماد کا اشاریہ جنوری سے مارچ ۲۰۲۶ کے دوران نمایاں کمی کے بعد ۶۵.۳ پر آگیا ہے۔ یہ مالی سال ۲۰۲۶ کی تیسری سہ ماہی ہے۔ یہ اعداد و شمار ڈن اینڈ بریڈسٹریٹ پاکستان اور گیلپ پاکستان کی تازہ رپورٹ میں جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ سہ ماہی میں صارفین کے اعتماد کا اشاریہ ۸۶.۴ تھا، جس کے مقابلے میں حالیہ سہ ماہی میں ۲۴.۴ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری اور گھریلو مالی صورتحال کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش نے صارفین کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
موجودہ صورتحال سے متعلق صارفین کے اعتماد کا اشاریہ ۵۱.۸ رہا، جبکہ مستقبل کے معاشی حالات کے بارے میں اعتماد ۷۸.۷ ریکارڈ کیا گیا۔ دونوں اعداد و شمار گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں کم ہیں۔
صارفین کے اعتماد کا اشاریہ گھریلو مالی صورتحال، ملکی معاشی حالات، بے روزگاری اور بچت سمیت چار اہم شعبوں کا جائزہ لیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مہنگائی صارفین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ سروے میں شامل ۸۹.۳ فیصد افراد نے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
اس کے علاوہ ۸۱ فیصد افراد نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران بے روزگاری کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ تقریباً ۴۰ فیصد افراد نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ چھ ماہ میں ان کی ذاتی مالی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
سروے میں مجموعی طور پر ۱,۵۹۲ افراد کی رائے شامل کی گئی۔ ۵۰ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں اعتماد میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ ہوئی، جو ۳۰.۴ فیصد رہی۔ ۳۰ سال سے کم عمر افراد کے اعتماد میں بھی کمی ہوئی، تاہم یہ کمی نسبتاً کم رہی۔
گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال گیلانی نے کہا کہ ۶۵.۳ کی تازہ شرح پاکستان کو انتہائی مایوس کن صورتحال میں لے جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے اشاریے کا ۵۱.۸ تک گرنا ظاہر کرتا ہے کہ عوام صرف مستقبل کے بارے میں پریشان نہیں بلکہ اس وقت بھی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ڈن اینڈ بریڈسٹریٹ پاکستان کے چیف بزنس آفیسر زبیر قریشی نے کہا کہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صارفین اس وقت شدید معاشی دباؤ میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ نتائج کاروباری اداروں اور پالیسی سازوں کے لیے اہم اشارہ ہیں تاکہ وہ آنے والے مہینوں کے لیے بہتر منصوبہ بندی کرسکیں۔
The Biz Update