کراچی، ۳ ستمبر ۲۰۲۶: ٹیٹرا پیک نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے غذائی بحران اور غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے خوراک کے تحفظ، ٹیکس نظام اور غذائی بنیادی ڈھانچے میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو محفوظ، معیاری، غذائیت سے بھرپور اور سستی خوراک کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔
اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ اعلیٰ سطحی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے ٹیٹرا پیک کے پاکستان، مشرق وسطیٰ، شمالی و مغربی افریقہ کے لیے کارپوریٹ امور کے ڈائریکٹر نور آفتاب نے کہا کہ پاکستان کا غذائی مسئلہ صرف خوراک کی دستیابی تک محدود نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ غذائیت سے بھرپور مصنوعات محفوظ اور معیاری ہوں اور مؤثر انداز میں صارفین تک پہنچیں۔
انہوں نے کہا کہ خوراک کی تیاری، پیکنگ، ذخیرہ کاری اور ترسیل کے نظام کو مضبوط بنا کر خوراک کی پوری قدر افزا زنجیر میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے مؤثر اور معاون پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
نور آفتاب نے خوراک کے تحفظ سے متعلق قوانین میں جامع اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غذائیت سے بھرپور تیار شدہ غذاؤں کی محفوظ اور بڑے پیمانے پر فراہمی کے لیے قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مہنگائی اور عوام کی کم ہوتی قوت خرید کے پیش نظر ضروری غذائی اشیا کو سستا رکھنے کے لیے مالیاتی اصلاحات اور ٹیکس میں ریلیف کی بھی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی غذا غذائیت سے بھرپور ہو سکتی ہے، لیکن اگر وہ محفوظ نہ ہو تو اس کے فوائد محدود ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق خوراک کی تیاری، پیکنگ، نقل و حمل، ذخیرہ کاری اور ترسیل اس بات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ خوراک محفوظ طریقے سے صارفین تک پہنچے۔
نور آفتاب نے دودھ اور ڈیری کے شعبے کو پاکستان میں غذائیت، کسانوں کی آمدنی، غذائی تحفظ، صنعتی ترقی اور مستقبل کی برآمدات کے لیے اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے کھیت اور فارم کی سطح پر دودھ کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دودھ کی پیداوار میں اضافہ، بہتر صنعتی تیاری کی صلاحیت اور مضبوط غذائی تحفظ کا نظام پاکستان کی ڈیری صنعت کی معاشی صلاحیت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔
مکالمے میں اسکولوں میں غذائی پروگراموں کو بھی بچوں کی غذائیت بہتر بنانے کے مؤثر ذرائع میں شامل قرار دیا گیا۔ ٹیٹرا پیک کے مطابق کمپنی ۱۹۶۲ سے دنیا بھر میں اسکولوں میں دودھ کی فراہمی کے پروگراموں میں معاونت کر رہی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر ہر دس میں سے چار بچے قد کی نشوونما میں کمی کا شکار ہیں، جسے قومی ہنگامی صورتحال قرار دیا گیا۔ شرکاء نے غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے ترسیلی نظام، افرادی قوت کی صلاحیتوں اور ملک بھر میں خوراک کے تحفظ کے یکساں معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا۔
The Biz Update