گلگت: وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز گلگت بلتستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حالیہ مون سون بارشوں سے ہونے والی تباہی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ماحولیاتی تبدیلی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن اس کے باوجود ہم عالمی حدت کے شدید اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں میں بحالی، ریلیف اقدامات اور نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت بھی کی۔
گلگت بلتستان کے گورنر سید مہدی شاہ اور وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان نے وزیراعظم کو حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نقصانات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، جن سے مقامی آبادی اور سیاح دونوں متاثر ہوئے۔ شہباز شریف نے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے "قومی سانحہ” قرار دیا۔
انہوں نے کہا، "پاکستان ماحولیاتی تباہی میں سب سے کم حصہ ڈالنے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ دیامر ہو یا گانچھے، ملک بھر میں موسمیاتی تبدیلی کی تباہ کاریاں واضح نظر آ رہی ہیں۔”
موسمیاتی حکمت عملی اور عالمی فنڈنگ کی فوری ضرورت
وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی کو فوری طور پر قومی حکمتِ عملی تیار کرنے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی فنڈز حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے جدید موسمیاتی پیش گوئی کے نظام، ہنگامی حالات میں ریلیف اور بچاؤ کے لیے جدید انفراسٹرکچر کے قیام کا بھی حکم دیا۔
انہوں نے کہا، "ہمیں فوری فنڈنگ اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ہم خود کو اس آفت کے لیے تیار کر سکیں۔”
وزیراعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA)، پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA)، وزارت مواصلات اور دیگر اداروں کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی بحالی اور لوگوں کے محفوظ انخلا پر فوری کارروائیوں کو سراہا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 21 جولائی کو گلگت بلتستان میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث شدید نقصان ہوا، جہاں 600 سے زائد افراد کو بچایا گیا اور سڑکوں کو جلد کھول دیا گیا۔ پانچ عارضی خیمہ بستیاں قائم کی گئیں، جبکہ 10 ہیلی کاپٹر اور 2 سی-130 طیاروں کی مدد سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
وزیراعظم کی ہدایات:
- متاثرہ سڑکوں اور انفراسٹرکچر کا فوری سروے مکمل کیا جائے
- مواصلاتی نظام کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کیا جائے
- NDMA اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنایا جائے
- متاثرہ برادریوں کی جلد از جلد بحالی کو تیز کیا جائے
شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور تیاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان جیسے حساس علاقوں میں قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے جامع حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔
وفاقی وزرا عبدالعلیم خان، عطااللہ تارڑ، امیر مقام اور مصدق ملک بھی بریفنگ اور جائزہ اجلاس میں شریک تھے۔
The Biz Update