جمعہ , ستمبر 4 2026
تازہ ترین
شرجیل میمن کا سندھ کے مستقبل کا فیصلہ سندھ اسمبلی سے کرنے پر زور

شرجیل میمن کا سندھ کے مستقبل کا فیصلہ سندھ اسمبلی سے کرنے پر زور

کراچی، 3 ستمبر 2026: سندھ کے سینئر وزیر اور وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ کے مستقبل، صوبائی حدود یا تقسیم سے متعلق کوئی بھی فیصلہ آئینی طریقہ کار کے تحت منتخب سندھ اسمبلی ہی کرے گی۔

سندھ اسمبلی میں نثار احمد کھوڑو کی جانب سے پیش کی گئی تحریکِ التوا پر بحث کے دوران شرجیل میمن نے اجلاس کو تاریخی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم بحث کو کتابی شکل میں محفوظ کیا جانا چاہیے تاکہ حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کی تقاریر اور مؤقف آئندہ نسلوں کے لیے تاریخی ریکارڈ کا حصہ بن سکیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور سندھ حکومت کا نئے صوبوں کے معاملے پر مؤقف واضح ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کو کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ سے متعلق کسی بھی معاملے کا فیصلہ سندھ اسمبلی کرے، اسی طرح پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے متعلق معاملات کا فیصلہ متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے ہونا چاہیے۔

آئین کے آرٹیکل 239(4) کا حوالہ دیتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی جیسے اہم آئینی معاملات کا فیصلہ منتخب اسمبلیوں کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ ٹی وی ٹاک شوز، سروے، ریفرنڈم، سڑکوں، جلسوں یا جلوسوں کے ذریعے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سندھ کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے تو یہ فیصلہ سندھ اسمبلی کے فلور پر ہونا چاہیے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ اسمبلی ماضی میں صوبے کی وحدت کے حق میں متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے اور موجودہ بحث کے بعد بھی اس معاملے پر ایک اور قرارداد متوقع ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سندھ کے عوام کو اپنے صوبے سے محبت کے ساتھ پاکستان سے بھی گہری وابستگی ہے۔ پاکستان کی سالمیت، خودمختاری، آئینی حیثیت اور قومی یکجہتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، جبکہ سندھ کی شناخت اور پاکستان میں اس کی آئینی حیثیت بھی اہم ہے۔

نئے صوبوں کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ حساس معاملات کو سیاسی یا لسانی بنیادوں پر استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔ ان کے مطابق سندھ کی تقسیم کے معاملے کو سندھی اور اردو بولنے والوں کے درمیان تنازع نہیں بننا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ لسانی بنیادوں پر لوگوں میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش سندھ کے عوام کے مفاد میں نہیں۔ صوبے کے عوام کو لسانی اختلافات کی سیاست مسترد کرتے ہوئے اتحاد، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے۔

شرجیل میمن نے ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی قیادت کی جانب سے سندھ کی تقسیم اور نئے صوبے کے قیام سے متعلق دیے گئے مختلف بیانات کا بھی حوالہ دیا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ان بیانات کا مقصد موجودہ بحث کو سیاسی پس منظر میں بیان کرنا ہے، نہ کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں اردو اور سندھی بولنے والے عوام کے درمیان مضبوط رشتے موجود ہیں اور سندھ کی وحدت کا معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت یا لسانی گروہ تک محدود نہیں۔ مختلف زبانیں بولنے والے تمام شہری سندھ کی ترقی اور اتحاد میں برابر کے شریک ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور زبان کی بنیاد پر سندھ میں رہنے والی مختلف برادریوں کو ایک دوسرے سے دور نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مختلف زبانیں بولنے والے شہریوں کے درمیان بھائی چارے اور باہمی احترام پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی بحث کو تقسیم کی سیاست کے بجائے روزگار، عوامی سہولیات، بہتر حکمرانی اور لوگوں کے عملی مسائل کے حل پر مرکوز ہونا چاہیے۔

شرجیل میمن نے مؤقف اختیار کیا کہ حکمرانی اور انتظامی مسائل کا حل نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانا نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات اور بہتر نظامِ حکومت ہے۔ ان کے مطابق کسی نئے انتظامی یونٹ کا قیام موجودہ اداروں کی خامیوں کو خود بخود دور نہیں کر سکتا۔

انہوں نے نئے صوبوں کے معاملے پر مختلف صوبوں میں اختیار کیے جانے والے رویے پر بھی سوال اٹھایا اور 2012 میں پنجاب اسمبلی کی جانب سے جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے سے متعلق منظور کی گئی قراردادوں کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں سے متعلق ایک ہی آئینی اصول تمام صوبوں پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔ اگر نئے صوبوں کا قیام آئینی معاملہ ہے تو جہاں پہلے سے قراردادیں منظور ہو چکی ہیں، وہاں بھی اسی اصول کے تحت معاملہ آگے بڑھنا چاہیے۔

شرجیل میمن نے ایک بار پھر کہا کہ ہر صوبے کے مستقبل کا فیصلہ اس کی منتخب اسمبلی کو آئین کے مطابق کرنا چاہیے اور یہی طریقہ پورے پاکستان میں اختیار کیا جانا چاہیے۔

آخر میں انہوں نے قومی یکجہتی، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی پر زور دیا۔ ان کے مطابق پاکستان مختلف صوبوں، زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کا ملک ہے اور اس کی طاقت اسی تنوع میں اتحاد برقرار رکھنے میں ہے۔

انہوں نے کراچی اور سندھ کو مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے لوگوں کے باہمی میل جول کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام نے ہمیشہ رواداری اور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا ہے اور انہیں لسانی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کرنا چاہیے۔

Please follow and like us:
Pin Share

About admin

Check Also

ڈسکوز میں اصلاحات کے بغیر مسابقتی بجلی منڈی کا قیام خطرناک ہوگا، ماہرین

ڈسکوز میں اصلاحات کے بغیر مسابقتی بجلی منڈی کا قیام خطرناک ہوگا، ماہرین

اسلام آباد: توانائی کے ماہرین، حکومتی اداروں، صنعت اور تحقیقی شعبے سے وابستہ نمائندوں نے …

ایس ای سی پی کی 28 ہزار 761 کمپنیوں کو حقیقی مالکان کی تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر نوٹس

ایس ای سی پی کی 28 ہزار 761 کمپنیوں کو حقیقی مالکان کی تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر نوٹس

اسلام آباد، 3 ستمبر 2026: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) …

ٹیٹرا پیک کا پاکستان کے غذائی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اصلاحات کا مطالبہ

ٹیٹرا پیک کا پاکستان کے غذائی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اصلاحات کا مطالبہ

کراچی، ۳ ستمبر ۲۰۲۶: ٹیٹرا پیک نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے غذائی بحران اور غذائی …

پاکستان میں مقامی موبائل فون اسمبلی میں جولائی کے دوران 9 فیصد سالانہ اضافہ

پاکستان میں مقامی موبائل فون اسمبلی میں جولائی کے دوران 9 فیصد سالانہ اضافہ

کراچی، 24 اگست 2026: پاکستان میں مقامی طور پر موبائل فون کی تیاری اور اسمبلی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

RSS
LinkedIn
Share