کراچی: کمرشل امپورٹرز نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کمرشل اور صنعتی خام مال کی درآمدات پر عائد ٹیکس میں موجود فرق کو ختم کیا جائے، کیونکہ ان کے مطابق یہ فرق ٹیکس چوری کو فروغ دے رہا ہے اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہا ہے۔
صنعتی نمائندوں کے مطابق کمرشل درآمدات پر زیادہ ٹیکس جبکہ صنعتی درآمدات پر کم ٹیکس کی وجہ سے مارکیٹ میں شدید بگاڑ پیدا ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی اشیاء صنعتی یونٹس کے نام پر درآمد کی جا رہی ہیں اور بعد ازاں کھلی مارکیٹ میں فروخت کر دی جاتی ہیں، جس سے حکومت کو اربوں روپے کے ممکنہ ریونیو سے محرومی کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹیکس میں مجموعی فرق تقریباً 26 سے 28 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو حقیقی کمرشل امپورٹرز کے لیے کاروباری لحاظ سے قابل عمل نہیں رہا۔ اس صورتحال کے باعث امپورٹرز مسابقت برقرار رکھنے کے لیے غیر رسمی طریقوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے بھی اپنی سفارشات میں اس مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے حکومت سے ٹیکس فرق ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ مارکیٹ میں یہ بھی عام ہو چکا ہے کہ سامان صنعتی یونٹس کے نام پر منگوایا جاتا ہے جبکہ ٹیکس فرق کے برابر تقریباً 25 سے 30 فیصد تک کا غیر رسمی پریمیم نجی طور پر ادا کیا جاتا ہے۔
کمرشل امپورٹرز نے خبردار کیا کہ یہ غیر رسمی نظام حکومت کی آمدن کو کم کر کے غیر دستاویزی چینلز کی طرف منتقل کر رہا ہے، جس سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور غیر رجسٹرڈ خریداروں کو فروخت بڑھ رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کمرشل امپورٹرز بنیادی طور پر خام مال اور انٹرمیڈیٹ اشیاء درآمد کرتے ہیں جو صنعتی پیداوار میں استعمال ہوتی ہیں، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی یونٹس براہ راست بڑی مقدار میں درآمد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اسی لیے کمرشل امپورٹرز پر انحصار کرتے ہیں۔
امپورٹرز نے حکومت کو دو تجاویز پیش کی ہیں: پہلی یہ کہ صنعتی اور کمرشل خام مال کی درآمدات پر ٹیکس کا فرق مکمل طور پر ختم کیا جائے، یا پھر کمرشل امپورٹس پر ٹیکس کم کر کے فرق کو زیادہ سے زیادہ دو سے تین فیصد تک محدود کیا جائے۔
ان کے مطابق اگر ٹیکس نظام کو بہتر بنایا جائے تو درآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور معیشت زیادہ دستاویزی بن سکتی ہے، جس سے قومی خزانے کو اضافی اربوں روپے کی آمدن حاصل ہو گی۔
The Biz Update