کراچی، 15 اگست 2026: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے پاکستان کی معیشت میں استحکام کی جانب پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے پائیدار ترقی کے لیے مسلسل اصلاحات، مضبوط اداروں اور معاشی نظم و ضبط برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے پاکستان کے 79ویں یوم آزادی کے موقع پر کراچی میں اسٹیٹ بینک کے دفتر میں پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران محتاط مالی اور زری پالیسیوں نے ملکی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اب معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
جمیل احمد نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے دوران اوسط مہنگائی 7.1 فیصد رہی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے جائزے کے مطابق موجودہ زری پالیسی مہنگائی کو درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف میں رکھنے کے لیے موزوں ہے، جبکہ اس سے معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے لیے بھی گنجائش پیدا ہو رہی ہے۔
گورنر کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ مالی سال 2027 میں شرح نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
انہوں نے بیرونی شعبے میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ریکارڈ ترسیلات زر کے ذریعے ملکی معیشت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ مالی سال 2026 میں ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں جبکہ مالی سال 2027 میں یہ رقم 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
گورنر نے کہا کہ ترسیلات زر میں اضافے اور کم کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی ہے۔ مالی سال 2026 کے اختتام پر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ مالی سال 2027 کے دوران ان کے 21 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
جمیل احمد نے گزشتہ ایک سال کے دوران مالیاتی نظام کو جدید بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ PRISM+ کے کامیاب آغاز سے پاکستان کا ادائیگیوں کا نظام عالمی معیار کے مزید قریب آیا ہے اور بڑے مالیاتی لین دین اور سیٹلمنٹس کو تیز، محفوظ اور مؤثر بنانے میں مدد ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے ریٹیل ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ڈیجیٹل لین دین کی تعداد تقریباً 10 ارب سے بڑھ کر 12 ارب ہو گئی۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایک زیادہ دستاویزی، شفاف اور مؤثر معیشت کی جانب اہم قدم بھی ہے۔
مالیاتی شمولیت کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک معاشرے کے تمام طبقات کو رسمی مالیاتی نظام تک رسائی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے InvestPak کے آغاز کا بھی ذکر کیا، جس کے ذریعے عوام کو آسان، محفوظ اور شفاف سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
گورنر نے اسلامی بینکاری، گرین فنانس، سائبر سیکیورٹی اور مالیاتی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اسٹیٹ بینک کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے مالیاتی نظام کو محفوظ، مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
جمیل احمد نے کہا کہ معاشی خود انحصاری، مضبوط ادارے، قانون کی حکمرانی اور قومی یکجہتی آزادی کی حقیقی روح کو عملی شکل دینے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اہم پیش رفت ہوئی ہے تاہم ملک کو اب بھی متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے مسلسل محنت، عزم اور ثابت قدمی ضروری ہے۔
مستقبل کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی ترجیحات میں قیمتوں کا استحکام، پالیسی اصلاحات اور ایسا سازگار معاشی ماحول پیدا کرنا شامل ہے جو پیداواری صلاحیت، برآمدات اور روزگار کے فروغ میں مدد دے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے اور ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے ادارے کے افسران اور ملازمین کی محنت، عزم اور پیشہ ورانہ خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ گزشتہ سال حاصل ہونے والی پیش رفت ان کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
تقریب کے اختتام پر اسٹیٹ بینک نے پائیدار معاشی ترقی، مالیاتی استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنا کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
The Biz Update