کراچی، 23 ستمبر 2026: اسٹینڈرڈ چارٹرڈ فاؤنڈیشن نے انوویچرز گلوبل اور ولیج کیپیٹل کے اشتراک سے پاکستان کے لیے ویمن اِن ٹیک ایکسیلیریٹر کے آٹھویں مرحلے کے فاتحین کا اعلان کردیا ہے۔ تین خواتین کی قیادت میں قائم اسٹارٹ اپس کو مجموعی طور پر ایک کروڑ 5 لاکھ روپے کے بلا معاوضہ ایکویٹی گرانٹس دیے گئے۔
فاتحین کا اعلان کراچی میں منعقدہ گریجویشن تقریب کے دوران کیا گیا۔ گرانٹ کے علاوہ فاتح اسٹارٹ اپس کو مزید چھ ماہ تک کاروباری رہنمائی اور مالی نگرانی فراہم کی جائے گی، جبکہ انہیں ویمن اِن ٹیک ایلومنائی نیٹ ورک کی تاحیات رکنیت بھی دی جائے گی۔
ایمن شفیق کی جانب سے قائم کردہ ای وی اسکوائر نے پہلی پوزیشن حاصل کرتے ہوئے 50 لاکھ روپے کا انعام حاصل کیا۔ مناہل ظفر کی جانب سے قائم کردہ بلوشا ایپ نے دوسری پوزیشن حاصل کی اور اسے 30 لاکھ روپے دیے گئے، جبکہ انوشہ شاہد کی جانب سے قائم کردہ زولٹا نے تیسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے 25 لاکھ روپے کا انعام حاصل کیا۔
ایکسیلیریٹر پروگرام کا آغاز 30 بانیوں کے ساتھ چھ روزہ جامع تربیتی پروگرام سے ہوا۔ اس کے بعد 10 خواتین کاروباری افراد کو تین ماہ تک سرمایہ کاری کے لیے تیاری، ماہرین کی رہنمائی اور کاروباری ماڈلز کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی معاونت فراہم کی گئی۔
شرکا کو اپنے کاروباری ماڈلز، مسابقتی برتری، کاروبار کو وسعت دینے کی صلاحیت اور سرمایہ حاصل کرنے کی حکمت عملی بہتر بنانے کے مواقع بھی فراہم کیے گئے۔ پروگرام میں دو مراحل پر مشتمل مالی معاونت بھی شامل تھی، جبکہ گروپ میں موجود زیادہ صلاحیت رکھنے والے اسٹارٹ اپس کے لیے اضافی مالی معاونت فراہم کی گئی۔
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ہیڈ آف کوریج عادل صلاح الدین نے فاتحین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ویمن اِن ٹیک ایکسیلیریٹر کے آٹھویں مرحلے کے بانیوں نے ایسے حل تیار کرنے کے لیے بھرپور عزم کا مظاہرہ کیا جو مثبت اثرات پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے ذریعے کاروباری افراد کو رہنمائی، کاروباری مشاورت، صنعتی روابط اور استعداد کار بڑھانے کے مواقع فراہم کیے گئے تاکہ وہ اپنے کاروباری ماڈلز کو مضبوط بنا سکیں اور ترقی کے سفر کو تیز کر سکیں۔
کراچی میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر ایلیسن بلیک برن نے کہا کہ پاکستان کی خواتین کاروباری افراد اپنے مضبوط خیالات کو ایسے کاروبار میں تبدیل کر رہی ہیں جو روزگار پیدا کرنے اور لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس سال کے فاتحین کو مبارکباد بھی دی۔
شرکا نے اپنے کاروباری منصوبے ججز کے ایک پینل کے سامنے پیش کیے، جس میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کے آزاد غیر انتظامی ڈائریکٹر اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن غیاث خان، ایف ایف سی کے بورڈ رکن اور پِلاپ کے صدر سعد امان اللہ، یونی لیور پاکستان کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر مشرف حئی اور صحت کہانی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سارہ خرم شامل تھے۔
ویمن اِن ٹیک ایکسیلیریٹر ان خواتین کاروباری افراد کی معاونت کرتا ہے جو مارکیٹ اور معاشرتی ضروریات کو پورا کرنے والے جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار قائم کر رہی ہیں۔ شرکا کو کاروبار کو وسعت دینے، روزگار پیدا کرنے اور دیرپا اثرات پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی تیاری، مالی معاونت اور ماہرین کی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔
پاکستان کے لیے ایکسیلیریٹر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ فاؤنڈیشن کے عالمی ویمن اِن ٹیک پروگرام کا حصہ ہے۔ پروگرام کے آغاز سے اب تک پاکستان میں 200 سے زائد خواتین کی قیادت میں قائم اسٹارٹ اپس کو رہنمائی فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ 4 لاکھ 25 ہزار امریکی ڈالر سے زائد کی گرانٹ فنڈنگ بھی دی گئی ہے۔
The Biz Update