منگل , اگست 11 2026
تازہ ترین
حنیف گوہر کا پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم
حنیف گوہر کا پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم

حنیف گوہر کا پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم

کراچی، 10 اگست 2026: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری رز آف پاکستان کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (ABAD) کے سابق چیئرمین اور یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) سدرن ریجن کے سیکریٹری جنرل محمد حنیف گوہر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔۔

حنیف گوہر نے معاہدے کی تکمیل میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں امن، باہمی احترام اور اجتماعی سلامتی کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

ان کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ خطے میں زیادہ محفوظ، مستحکم اور پُرامن ماحول کے قیام میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

حنیف گوہر نے کہا کہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی، سفارتی اور تزویراتی تعاون بڑھانے کی جانب اہم قدم ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے باہمی دفاع اور سلامتی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس کے مطابق کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ معاہدہ تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں اور تجربات کو مزید قریب لانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ پاکستان ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب اپنی معاشی طاقت اور علاقائی اثر و رسوخ کے ذریعے تعاون کرسکتا ہے۔ اسی طرح ترکیہ پاکستان کے وسیع فوجی تجربے اور دفاعی تعاون سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک دفاعی پیداوار، فوجی تربیت، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، مشترکہ مشقوں اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔

مزید برآں، حنیف گوہر نے کہا کہ دفاعی تعاون میں اضافہ خطے میں اجتماعی دفاعی صلاحیت اور مزاحمت کو مضبوط کرسکتا ہے۔ تینوں ممالک کا متحدہ دفاعی مؤقف ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی اور علاقائی استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے معاہدے کے ممکنہ معاشی فوائد کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق مضبوط دفاعی تعلقات دفاعی صنعت، تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی پیداوار میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔

حنیف گوہر نے کہا کہ یہ معاہدہ صرف دفاعی تعلقات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان معاشی، صنعتی اور سفارتی روابط کو بھی مزید مضبوط بنانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

Please follow and like us:
Pin Share

About admin

Check Also

سعودی گروپ اور پی آئی اے کے درمیان فضائی تعاون بڑھانے پر غور

سعودی گروپ اور پی آئی اے کے درمیان فضائی تعاون بڑھانے پر غور

سعودی گروپ اور پی آئی اے کے درمیان فضائی تعاون بڑھانے پر غور

آبادی 24 کروڑ سے تجاوز، ماہرین نے ڈیٹا پر مبنی پالیسی اصلاحات پر زور دے دیا

آبادی 24 کروڑ سے تجاوز، ماہرین نے ڈیٹا پر مبنی پالیسی اصلاحات پر زور دے دیا

آبادی 24 کروڑ سے تجاوز، ماہرین نے ڈیٹا پر مبنی پالیسی اصلاحات پر زور دے دیا

۱۲ سرمایہ کاروں کی فیسکو نجکاری میں دلچسپی

12 سرمایہ کاروں کی فیسکو نجکاری میں دلچسپی

اسلام آباد، ۱۰ اگست ۲۰۲۶: نجکاری کمیشن کو فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، یعنی فیسکو، …

ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے صنعتی سرگرمیاں اور معیشت متاثر ہونے کا خدشہ

ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے صنعتی سرگرمیاں اور معیشت متاثر ہونے کا خدشہ

ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے صنعتی سرگرمیاں اور معیشت متاثر ہونے کا خدشہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

RSS
LinkedIn
Share