منگل , اگست 18 2026
چینی کنٹینر جہاز آرکٹک راستے سے یورپ روانہ
چینی کنٹینر جہاز آرکٹک راستے سے یورپ روانہ

چینی کنٹینر جہاز آرکٹک راستے سے یورپ روانہ

بیجنگ: ایک چینی کنٹینر جہاز نئے ہفتہ وار سروس روٹ کے تحت آرکٹک کے راستے یورپ کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ یہ نیا راستہ چین اور یورپ کے درمیان ترسیل کا وقت تقریباً نصف کر سکتا ہے، تاہم ماحولیاتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے قطبی برف پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

دبئی ٹاور نامی کنٹینر جہاز ہفتے کی شام چین کے مشرقی بندرگاہی شہر ننگبو سے روانہ ہوا۔ جہاز شمال کی جانب سفر کرتے ہوئے بیرنگ آبنائے سے گزرے گا اور پھر روس کے شمالی ساحل کے ساتھ مغرب کی سمت آگے بڑھے گا۔

سی لیگینڈ کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق جہاز 7 ستمبر کو برطانیہ کے فیلکس اسٹو پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کے بعد یہ جرمنی کے شہر ہیمبرگ اور پولینڈ کے شہر گڈینیا جائے گا۔

ناردرن سی روٹ (NSR) چین اور یورپ کے درمیان روایتی سوئز کینال روٹ کے مقابلے میں کہیں مختصر ہے۔ اس راستے سے جہاز بحیرہ احمر سے بھی بچ سکتے ہیں، جہاں یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے حملوں کے باعث تجارتی جہاز رانی کو سیکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے۔

تاہم آرکٹک روٹ صرف سال کے ان مہینوں میں قابلِ استعمال ہوتا ہے جب سمندری برف اتنی پگھل جائے کہ جہاز بغیر آئس بریکرز کے گزر سکیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی شپنگ پہلے ہی شدید متاثر ہے۔ یہ صورتحال فروری کے آخر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد مزید پیچیدہ ہوئی۔

دیگر شپنگ کمپنیوں نے بھی ماضی میں آرکٹک روٹ استعمال کیا ہے۔ ڈنمارک کی مرسک 2018 میں اس راستے سے گزرنے والی پہلی بڑی کنٹینر شپنگ کمپنی بنی تھی۔

الائنس کمرشل کی شپنگ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 23 کنٹینر جہاز ناردرن سی روٹ سے گزرے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 15 تھی۔

ماحولیاتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ ناردرن سی روٹ پر جہازوں کی بڑھتی ہوئی آمدورفت آرکٹک کی سمندری برف میں کمی کو تیز کر سکتی ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث قطبی برف پہلے ہی تیزی سے متاثر ہو رہی ہے۔

فرانس کی CMA CGM، سوئٹزرلینڈ کی MSC اور جرمنی کی Hapag-Lloyd سمیت بڑی شپنگ کمپنیوں نے آرکٹک ٹرانس شپمنٹ روٹس سے گریز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اس کے باوجود تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں آرکٹک ایک اہم عالمی تجارتی راستہ بن سکتا ہے، خاص طور پر چین کے لیے۔ چین نے خطے تک رسائی بڑھانے کے لیے “پولر سلک روڈ” کے منصوبے بھی پیش کیے ہیں۔

Please follow and like us:
Pin Share

About admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

RSS
LinkedIn
Share