بدھ , اگست 19 2026
TCP کے 342.947 ارب روپے کے واجبات پر حکام طلب
TCP کے 342.947 ارب روپے کے واجبات پر حکام طلب

TCP کے 342.947 ارب روپے کے واجبات پر حکام طلب

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے 342.947 ارب روپے کے واجبات کا معاملہ حل نہ ہونے پر سیکریٹری خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان واجبات میں 265.719 ارب روپے کا بینک مارک اپ بھی شامل ہے۔ یہ فیصلہ سیکریٹری تجارت جواد پال اور ٹی سی پی کے چیئرمین رفیع بشیر شاہ کی درخواست پر کیا گیا، جنہوں نے کمیٹی سے طویل عرصے سے زیر التوا مسئلے کے حل میں مدد طلب کی تھی۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق 31 جولائی 2026 تک مختلف سرکاری اداروں اور محکموں پر ٹی سی پی کے مجموعی واجبات 342.947 ارب روپے تھے۔ ان میں اصل رقم تقریباً 77.228 ارب روپے جبکہ جمع شدہ مارک اپ 265.719 ارب روپے تھا۔

ٹی سی پی کے بڑے واجبات میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے 121.138 ارب روپے، نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ لمیٹڈ کے 76.331 ارب روپے، پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے 47.601 ارب روپے اور سندھ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے 20.748 ارب روپے شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا فوڈ ڈیپارٹمنٹ پر 17.357 ارب روپے، بلوچستان فوڈ ڈیپارٹمنٹ پر 11.919 ارب روپے، گلگت بلتستان حکومت پر 7.405 ارب روپے اور پاسکو پر 6.996 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ذمہ کپاس سبسڈی کی مد میں 3.135 ارب روپے جبکہ آزاد جموں و کشمیر حکومت کے ذمہ 2.332 ارب روپے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار کے ذمہ چینی سے متعلق مختلف مدات میں بھی بڑی رقوم واجب الادا ہیں، جن میں ایک مد میں 20.455 ارب روپے اور پنجاب کی شوگر سبسڈی کی مد میں 5.168 ارب روپے شامل ہیں۔

ٹی سی پی کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارہ متعلقہ محکموں اور وزارتوں کے ساتھ واجبات کی مفاہمت اور وصولی کے لیے مسلسل رابطے میں ہے۔

ٹی سی پی نے تمام واجبات، بشمول مارک اپ، کے تصفیے کے لیے نومبر 2023 میں وزارت تجارت کو ایک سمری بھی ارسال کی تھی۔ سمری کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

سمری میں مارک اپ کی ادائیگی کے لیے وفاقی بجٹ سے رقم مختص کرنے یا 2011 میں اختیار کیے گئے طریقہ کار کی طرز پر پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) جاری کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی نے مارچ 2025 میں وزارت خزانہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ متعلقہ بینکوں سے مارک اپ کے معاملے پر مشاورت کرے۔ مقصد جمع شدہ مارک اپ کی حد مقرر کرنا یا باہمی رضامندی سے تصفیہ کرنا تھا۔

دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے ٹی سی پی کو بتایا کہ مسئلہ بنیادی طور پر مختلف سرکاری اداروں سے واجبات کی وصولی سے متعلق ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق بینکنگ کے نقطہ نظر سے اس معاملے میں اسٹیٹ بینک یا کمرشل بینکوں کا براہ راست کردار نہیں بنتا۔

تاہم ٹی سی پی کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی بار بار ہدایات کے باوجود متعلقہ اداروں سے واجبات کی مفاہمت اور ادائیگی میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

دستاویزات کے مطابق 30 اپریل 2026 تک نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ لمیٹڈ (NFML) پر درآمدی یوریا کی مد میں 135.270 ارب روپے واجب الادا تھے۔ مالی سال 2025-26 میں درآمدی یوریا کی بقایا سبسڈی کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے، جو 18 مئی اور 30 جون 2026 کو 7.5، 7.5 ارب روپے کی دو اقساط میں ادا کیے گئے۔

اب قائمہ کمیٹی برائے تجارت اسٹیٹ بینک کے گورنر سے یہ وضاحت طلب کرے گی کہ مرکزی بینک نے ٹی سی پی کے مارک اپ بوجھ کو کم کرنے یا کم از کم موجودہ سطح پر منجمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں

Please follow and like us:
Pin Share

About admin

Check Also

PTCL اور IRM کا 22 اضلاع میں خواتین کی ڈیجیٹل خواندگی کے لیے اشتراک

PTCL اور IRM کا 22 اضلاع میں خواتین کی ڈیجیٹل خواندگی کے لیے اشتراک

کراچی، 17 اگست 2026: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ () نے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ …

خیبر پختونخوا میں خصوصی افراد کے لیے 1.2 ارب روپے کے احساس پروگرامز کا آغاز

خیبر پختونخوا میں خصوصی افراد کے لیے 1.2 ارب روپے کے احساس پروگرامز کا آغاز

خیبر پختونخوا میں خصوصی افراد کے لیے 1.2 ارب روپے کے احساس پروگرامز کا آغاز

چینی کنٹینر جہاز آرکٹک راستے سے یورپ روانہ

چینی کنٹینر جہاز آرکٹک راستے سے یورپ روانہ

چینی کنٹینر جہاز آرکٹک راستے سے یورپ روانہ

پٹرولیم ڈویژن کا ایس این جی پی ایل کے گیس واجبات کی ادائیگی کے لیے پلان طلب

پٹرولیم ڈویژن کا ایس این جی پی ایل کے گیس واجبات کی ادائیگی کے لیے پلان طلب

پٹرولیم ڈویژن کا ایس این جی پی ایل کے گیس واجبات کی ادائیگی کے لیے پلان طلب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

RSS
LinkedIn
Share