کراچی، 10 اگست 2026: مال بردار ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال کے باعث صنعتی سرگرمیوں، سپلائی چین اور برآمدات میں خلل کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ کاروباری رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ ہڑتال طویل ہونے سے پیداوار متاثر اور ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری (SAI) کے صدر عبدالرحمن فدا نے کہا کہ ہڑتال نے صنعتی شعبے کے لیے سنگین مشکلات پیدا کردی ہیں۔ ان کے مطابق فیکٹریوں کو خام مال کی بروقت فراہمی اور تیار مصنوعات کی ترسیل کے لیے ٹرانسپورٹ کی مسلسل دستیابی ضروری ہے۔
فدا نے کہا کہ اگر ٹرانسپورٹ کی بندش طویل ہوئی تو ضروری خام مال نہ ملنے کے باعث کئی فیکٹریوں میں پیداوار رک سکتی ہے۔ دوسری جانب تیار مصنوعات کی ترسیل میں تاخیر سے کاروباری اداروں پر مالی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدی صنعتوں کو اس صورتحال سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ اگر کمپنیاں برآمدی سامان بروقت خریداروں تک نہ پہنچا سکیں تو انہیں جرمانوں، قیمتوں میں کمی یا مالی نقصان کے دعووں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
فدا نے خبردار کیا کہ ٹرانسپورٹ میں مسلسل رکاوٹ سے عالمی خریداروں میں پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ برآمدی ترسیل میں تاخیر سے مستقبل کے آرڈرز متاثر ہونے اور ملکی برآمدی مسابقت کم ہونے کا خدشہ ہے۔
دریں اثنا، صنعتکاروں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر پہلے ہی کئی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں لاجسٹکس کا ایک اور بحران پیداواری لاگت میں اضافے اور پیداوار کے شیڈول میں مزید رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔
عبدالرحمن فدا نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرے تاکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہ سکیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہڑتال جاری رہی تو اس کے اثرات صرف صنعتوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ برآمدات، روزگار، سپلائی چین اور مجموعی معاشی سرگرمیاں بھی نمایاں نقصان سے دوچار ہوسکتی ہیں۔
The Biz Update