کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے بینکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے کاروباری ماڈلز کو بہتر بناتے ہوئے ریٹیل ڈپازٹس میں اضافہ اور نجی شعبے کو زیادہ فنانسنگ فراہم کرنے پر توجہ دیں تاکہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے اگلے مرحلے کو مضبوط بنایا جا سکے۔
کراچی میں 11ویں پاکستان بینکنگ ایوارڈز 2026 سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالی سال 2026 کے دوران شدید سیلاب، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستانی معیشت نے مضبوط لچک کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی درمیانی مدت کے ہدف کے قریب رہی، مہنگائی کی توقعات مجموعی طور پر مستحکم رہیں، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ متوقع حد کے نچلے سرے کے قریب رہا۔
گورنر نے بتایا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہوا اور یہ جون کے اختتام کے 18 ارب ڈالر کے ہدف سے تجاوز کر گئے۔ انہوں نے کہا کہ ذخائر میں اضافے کا معیار بھی بہتر ہوا ہے کیونکہ اس میں زیادہ حصہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرمبادلہ کی خریداری کا ہے، جبکہ قرضوں پر انحصار کم رہا۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کو مستحکم کرنا ایک اہم کامیابی ہے، لیکن صرف معاشی استحکام بلند اور پائیدار ترقی کے لیے کافی نہیں۔ اس مقصد کے لیے بینکاری شعبے کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔
گورنر کے مطابق جون 2026 کے اختتام تک بینکوں کے مجموعی اثاثے 69 کھرب روپے جبکہ ڈپازٹس 43 کھرب روپے تک پہنچ گئے تھے۔ بینکوں کی منافع بخش کارکردگی مضبوط رہی اور ان کا کیپیٹل ایڈی کویسی ریشو بھی ملکی اور بین الاقوامی تقاضوں سے کافی بلند رہا۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مالیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں پاکستان کے بینکاری اثاثوں اور ڈپازٹس کا مجموعی قومی پیداوار سے تناسب اب بھی کم ہے، جبکہ کرنسی اور ڈپازٹس کا تناسب بھی بلند ہے۔
گورنر نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ ریٹیل ڈپازٹس کے حصول کے لیے زیادہ فعال انداز اپنائیں اور صارفین کو پرکشش منافع کے ساتھ بہتر خدمات فراہم کریں۔ ان کے مطابق ڈپازٹس میں اضافے سے مالیاتی شمولیت بڑھے گی اور بینکوں کو زیادہ مستحکم اور متنوع فنڈنگ بیس حاصل ہوگا۔
انہوں نے نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے پر بھی زور دیا۔ گورنر نے کہا کہ پاکستان میں کریڈٹ کی رسائی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں اب بھی کم ہے، جبکہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے قرضوں کا مجموعی قومی پیداوار سے تناسب نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی مالی ضروریات اس کمی کی واحد وجہ نہیں ہیں، کیونکہ کئی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں حکومتی اندرونی قرضے زیادہ ہونے کے باوجود نجی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کا تناسب پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔
گورنر نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ زیادہ ڈپازٹس حاصل کرنے اور کاروباری اداروں و نجی شعبے کو زیادہ فنانسنگ فراہم کرنے کے لیے اپنے کاروباری ماڈلز میں تبدیلی لائیں۔
11ویں پاکستان بینکنگ ایوارڈز کا انعقاد پاکستان نے ڈان میڈیا گروپ اور اے ایف فرگوسن اینڈ کمپنی کے اشتراک سے کیا۔
میزان بینک لمیٹڈ نے بہترین بینک کا ایوارڈ حاصل کیا۔ بینک آف پنجاب نے خواتین کی شمولیت، چھوٹے اور درمیانے کاروبار اور زرعی شمولیت کے لیے بہترین بینک کے اعزازات اپنے نام کیے۔
اے ایس اے مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ کو بہترین مائیکروفنانس بینک جبکہ بینک الفلاح لمیٹڈ کو ڈیجیٹل کارکردگی کے لیے بہترین بینک کا ایوارڈ دیا گیا۔ میزان بینک نے صارفین سے بہترین روابط کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
عسکری بینک لمیٹڈ اور فیصل بینک لمیٹڈ کو مشترکہ طور پر بہترین درمیانے درجے کے بینک کا ایوارڈ دیا گیا، جبکہ ایچ بی ایل نے بہترین ESG بینک کا اعزاز حاصل کیا۔
پاکستان مائیکروفنانس انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو غیر بینکاری ادارے کی جانب سے بہترین خدمات کا ایوارڈ دیا گیا۔
The Biz Update