پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے خصوصی افراد کو معاشی اور تعلیمی طور پر بااختیار بنانے کے لیے مجموعی طور پر 1.2 ارب روپے کے دو نئے احساس پروگرامز شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے احساس لون پروگرام کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت خصوصی افراد کو آسان شرائط پر بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
ان قرضوں سے مستحق افراد اپنا کاروبار شروع کر سکیں گے، باعزت روزگار حاصل کر سکیں گے اور مالی طور پر خودمختار بن سکیں گے۔ یہ پروگرام رواں مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں شامل کیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت نے خصوصی افراد کے طلبہ کے لیے احساس اسکالرشپ پروگرام بھی شروع کیا ہے، جس کے لیے 700 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس پروگرام کا مقصد خصوصی افراد سے تعلق رکھنے والے مستحق طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری کرنا اور انہیں اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔ اسکالرشپس کے ذریعے مالی مشکلات کا شکار طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے کہ احساس امید کارڈ پروگرام بھی جلد شروع کیا جائے گا۔
اس پروگرام کے تحت 10 ہزار خصوصی افراد کو ہر ماہ 5 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ یتیموں اور بیواؤں کے لیے بھی اسی طرز کا کارڈ بیسڈ پروگرام متعارف کرایا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت اہل افراد کو ماہانہ 5 ہزار روپے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
حکومت کے مطابق تمام مالی امداد مستحق افراد کے بینک اکاؤنٹس میں براہِ راست منتقل کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور مالی معاونت مستحق افراد تک براہِ راست پہنچانا ہے۔
خصوصی افراد اور معاشرے کے دیگر مستحق طبقات کو رجسٹریشن کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر نہیں لگانا پڑیں گے۔ سماجی بہبود کے محکمے کے اہلکار مستحق افراد کے گھروں پر جا کر رجسٹریشن کریں گے اور ضروری معلومات جمع کریں گے۔
اس موقع پر ملک لیاقت علی خان نے ایک معذور بزرگ شہری کے لیے 50 ہزار روپے مالی امداد کا بھی اعلان کیا اور متعلقہ حکام کو خصوصی افراد کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خصوصی افراد اور ان کے خاندانوں کی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے ڈاؤری فنڈ میں خصوصی کوٹہ بھی مختص کیا جائے گا۔
صوبائی حکومت کے مطابق نئے اقدامات کا مقصد خصوصی افراد کے لیے سماجی تحفظ، تعلیم تک رسائی اور معاشی خودمختاری کے مواقع کو بہتر بنانا ہے۔
The Biz Update