کراچی، 8 ستمبر 2026: کراچی کے سائٹ صنعتی علاقے کے صنعتکاروں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے، مہنگی توانائی اور بھاری ٹیکسوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت صنعتوں کی بندش، برآمدات میں کمی اور بے روزگاری میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالرحمن فدا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے بجائے 15 روزہ قیمتوں کا نظام متعارف کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی قیمتوں میں استحکام صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور کاروباری اداروں کے لیے پیداواری لاگت کا درست اندازہ لگانے اور تجارتی معاہدے کرنے کے لیے ضروری ہے۔
عبدالرحمن فدا نے کہا کہ کاروباری اور صنعتی نمائندے حکومت سے کئی بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے اور روزانہ قیمتوں میں تبدیلی کے طریقہ کار پر نظرثانی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ تاہم، ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر 3.72 روپے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 12.90 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے صنعتوں اور کاروباری اداروں پر مزید مالی بوجھ پڑ گیا ہے۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت صنعتوں کو فعال اور روزگار کے مواقع برقرار رکھنا چاہتی ہے یا صنعتکاروں کو فیکٹریاں بند کرکے گھروں میں بیٹھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک جانب حکومت برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری لانے اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے اقدامات اور کمیٹیاں تشکیل دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ایسی پالیسیاں اختیار کی جا رہی ہیں جو صنعتوں کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل بنا رہی ہیں۔
عبدالرحمن فدا کے مطابق پاکستانی صنعتکار اور برآمد کنندگان پہلے ہی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بلند پیداواری لاگت کے باعث سخت مسابقت کا سامنا کر رہے ہیں۔ پیٹرولیم قیمتوں میں بار بار تبدیلی سے کاروباری اداروں کے لیے پیداواری لاگت کا تعین، قیمتوں کی پیشکش اور نئے تجارتی معاہدے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پہلے ہی مشکل حالات سے دوچار ہیں، جبکہ بڑے صنعتی یونٹس کو بھی اپنی بقا اور مسابقت برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر نے خبردار کیا کہ صنعتی سرگرمیوں میں کمی کا براہ راست اثر روزگار پر پڑے گا۔ بالخصوص نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کم ہونے سے سماجی مسائل، جرائم اور عدم تحفظ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتیں پہلے ہی مہنگی بجلی اور گیس، پانی کی ناکافی دستیابی، امن و امان کے مسائل اور بھاری ٹیکسوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں نئی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے حکومتی کوششیں اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتیں جب تک موجودہ صنعتوں کو مستحکم اور مسابقت کے قابل نہیں بنایا جاتا۔
عبدالرحمن فدا نے حکومت پر زور دیا کہ موجودہ صنعتوں کو بلا تعطل چلانا فوری ترجیح بنائی جائے، کیونکہ فعال صنعتی شعبہ روزگار پیدا کرنے، برآمدات بڑھانے، معاشی ترقی کو فروغ دینے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صنعتیں بند ہونے پر مجبور ہوئیں تو نئی سرمایہ کاری لانے اور برآمدات بڑھانے کی حکومتی کوششیں بھی مؤثر نہیں رہیں گی۔
The Biz Update