منگل , اکتوبر 6 2026
تازہ ترین
الغازی ٹریکٹرز نے ایگری کنیکشنز 2026 میں جدید زرعی مشینی کاری پر زور دیا
الغازی ٹریکٹرز نے ایگری کنیکشنز 2026 میں جدید زرعی مشینی کاری پر زور دیا

الغازی ٹریکٹرز نے ایگری کنیکشنز 2026 میں جدید زرعی مشینی کاری پر زور دیا

کراچی، 2 اکتوبر 2026: الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ نے پاکستان میں زرعی پیداوار بڑھانے اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے جدید اور قابل رسائی زرعی مشینی کاری کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔

کمپنی نے یہ مؤقف پاکستان ایگریکلچرل کولیشن کے ایگری کنیکشنز کانفرنس اینڈ ایکسپو 2026 میں پیش کیا، جہاں الغازی ٹریکٹرز نے پلاٹینم اسپانسر کی حیثیت سے شرکت کی۔

لاہور ایکسپو سینٹر میں یکم اور 2 اکتوبر کو منعقد ہونے والی کانفرنس حکومت پنجاب کے تعاون سے ہوئی۔ اس سال کانفرنس کا موضوع ’’موسمیاتی تبدیلی کے دور میں غذائی تحفظ اور زرعی سرمایہ کاری‘‘ تھا۔

تقریب میں اعلیٰ حکومتی حکام، ترقیاتی اداروں، زرعی کاروباری کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور ترقی پسند کسانوں نے شرکت کی۔ عالمی بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے بھی اس تقریب میں اسٹریٹجک شراکت داروں کی حیثیت سے شرکت کی۔

کانفرنس کے پہلے روز الغازی ٹریکٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر یاسین سیکر نے پاکستان کے زرعی شعبے کو درپیش چار بڑے مسائل کی نشاندہی کی۔ ان میں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں فصلوں کی کم پیداوار، خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب، چھوٹے کسانوں کے لیے پیداواری لاگت میں اضافہ اور بے قاعدہ مون سون، شدید گرمی اور پانی کی قلت کے بڑھتے ہوئے اثرات شامل ہیں۔

یاسین سیکر نے کہا کہ جدید زرعی مشینی کاری کسانوں کو پیداوار بڑھانے اور زرعی وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال میں مدد دے سکتی ہے۔

انہوں نے 1983 سے ڈیرہ غازی خان میں کمپنی کی ٹریکٹر سازی کی صنعت میں موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ الغازی ٹریکٹرز کا کردار صرف ٹریکٹر کی تیاری تک محدود نہیں۔ کمپنی مقامی پیداوار، سپلائرز کی ترقی، دیہی علاقوں میں ہنرمندی کے فروغ اور ملک بھر میں خدمات کے نیٹ ورک پر بھی توجہ دے رہی ہے۔

یاسین سیکر نے کہا کہ پاکستانی کسان کئی دہائیوں سے مناسب قیمت پر قابل اعتماد ٹریکٹر چاہتے ہیں، تاہم اب ان کی ضروریات تبدیل ہورہی ہیں۔ کسان زیادہ پیداوار، مشینوں کی بہتر کارکردگی، زرعی وسائل کے مؤثر استعمال اور مشین کی پوری مدت تک معاونت چاہتے ہیں۔

انہوں نے فوری طور پر قابل عمل دو اہم ٹیکنالوجیز کے طور پر مشینوں کی نگرانی کے نظام اور درست زرعی رہنمائی کی ٹیکنالوجی کو اجاگر کیا۔

مشینوں کی نگرانی کے نظام کے ذریعے مشین کی حالت کو حقیقی وقت میں دیکھا جاسکتا ہے، بروقت دیکھ بھال کے انتباہات حاصل کیے جاسکتے ہیں اور مشین کے استعمال کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔ اس طرح خرابی کے بعد مرمت کے بجائے پہلے سے دیکھ بھال کا نظام بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

اسی طرح درست زرعی رہنمائی اور خودکار اسٹیئرنگ سے کھیت میں ایک ہی جگہ پر بار بار کام کرنے سے بچا جاسکتا ہے اور بیج، کھاد اور زرعی ادویات کے زیادہ درست استعمال میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم یاسین سیکر نے واضح کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کسانوں کی ضروریات اور عملی فائدے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔

الغازی ٹریکٹرز کے مطابق جدید مشینی کاری کے فروغ کے لیے پہلے بنیادی مشینی سہولیات اور خدمات کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد زیادہ فائدہ دینے والی ٹیکنالوجیز کو آزمائشی بنیادوں پر استعمال کیا جائے، ان کے معاشی فوائد کا کسانوں کی سطح پر جائزہ لیا جائے اور صرف ان ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر متعارف کرایا جائے جو واضح مالی اور پیداواری فوائد ثابت کریں۔

یاسین سیکر نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو فائدے کے تابع ہونا چاہیے، نہ کہ فائدے کو ٹیکنالوجی کے تابع کیا جائے۔ ان کے مطابق اگر کوئی حل کسان کے اپنے کھیت میں اپنی افادیت ثابت نہیں کرسکتا تو اسے بڑے پیمانے پر متعارف نہیں کرانا چاہیے۔

کانفرنس کے دوسرے روز یاسین سیکر نے ’’زراعت میں ٹیکنالوجی کا مستقبل‘‘ کے عنوان سے اعلیٰ سطحی نشست میں بھی شرکت کی۔ انہوں نے پاکستان میں روایتی ٹریکٹرائزیشن سے آگے بڑھ کر مشینری، درست زرعی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سہولیات پر مشتمل مربوط زرعی نظام تشکیل دینے پر زور دیا۔

انہوں نے کسانوں کو درپیش مالی مشکلات کی بھی نشاندہی کی۔ پاکستان میں بڑی تعداد میں زرعی رقبے چھوٹے ہیں، اس لیے ہر کسان کے لیے ہر قسم کی مشین خریدنا ممکن نہیں۔

اس صورتحال میں مشینری کرائے پر لینے، لیزنگ، مشترکہ استعمال اور خدمات کی بنیاد پر مشینی کاری جیسے ماڈلز کسانوں کو جدید زرعی آلات تک رسائی فراہم کرسکتے ہیں۔

یاسین سیکر نے کہا کہ اس مقصد کے لیے کسانوں، زرعی مشینری بنانے والی کمپنیوں، ڈیلرز، حکومت، مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ترقیاتی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے سستے زرعی آلات کی مالی معاونت، فصلوں کی انشورنس، مؤثر زرعی توسیعی خدمات اور مقامی حالات کے مطابق ٹیکنالوجی کی تیاری کو بھی اہم قرار دیا۔

نمائش کے دوران الغازی ٹریکٹرز نے زرعی شعبے سے وابستہ افراد اور کسانوں کے لیے نیو ہالینڈ ٹریکٹرز بھی پیش کیے۔

الغازی ٹریکٹرز کی جانب سے پلاٹینم اسپانسرشپ جون 2026 میں پاکستان ایگریکلچرل کولیشن کے سرپرست رکن بننے کے فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس شراکت داری کے ذریعے کمپنی پاکستان میں نیو ہالینڈ ٹریکٹرز کی تیاری کے چار دہائیوں سے زائد تجربے کو زیادہ پیداواری، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اور مسابقتی زرعی شعبے کے فروغ کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

Please follow and like us:
Pin Share

About admin

Check Also

پاکستان میں انشورنس کے شعبے میں وسعت سے ایکچوئری کیریئر کے مواقع بڑھ سکتے ہیں

پاکستان میں انشورنس کے شعبے میں وسعت سے ایکچوئری کیریئر کے مواقع بڑھ سکتے ہیں

کراچی: پاکستان میں انشورنس کے شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، جہاں انشورنس …

آئی ٹی سی این ایشیا 2026 کراچی میں عالمی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری رہنماؤں کے ساتھ شروع

آئی ٹی سی این ایشیا 2026 کراچی میں عالمی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری رہنماؤں کے ساتھ شروع

کراچی، 22 ستمبر 2026: آئی ٹی سی این ایشیا 2026 کی 28ویں نمائش کراچی ایکسپو …

ڈی آئی بی پاکستان نے سرائے عالمگیر میں نئی برانچ کھول دی

ڈی آئی بی پاکستان نے سرائے عالمگیر میں نئی برانچ کھول دی

اسلام آباد، 23 ستمبر 2026: ڈی آئی بی پاکستان نے ملک بھر میں کاروباری اور …

ویمن اِن ٹیک ایکسیلیریٹر کے تحت تین خواتین کی قیادت میں قائم اسٹارٹ اپس کو 10.5 ملین روپے کے گرانٹس

ویمن اِن ٹیک ایکسیلیریٹر کے تحت تین خواتین کی قیادت میں قائم اسٹارٹ اپس کو 10.5 ملین روپے کے گرانٹس

کراچی، 23 ستمبر 2026: اسٹینڈرڈ چارٹرڈ فاؤنڈیشن نے انوویچرز گلوبل اور ولیج کیپیٹل کے اشتراک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

RSS
LinkedIn
Share